معرفت دعوت
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
اور امن) کی طرف متوجہ کیا، مگر عجیب بات ہے کہ انسان پیغمبروں کو اپنا رہنما نہ بنا سکا۔ اس نے پیغمبروں کو حقیر سمجھ کر اُن کو نظر انداز کر دیا۔ اس تاریخی واقعے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اس نوعیت کی ایک قرآنی آیت یہ ہے: يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِه يَسْتَهْزِؤُنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ توحید اور امن سے انحراف توحید کے معاملے میں انسان نے یہ انحراف کیا کہ اُس نے خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش شروع کردی۔ مخلوقات میں جو چیز بھی نمایاں نظر آئی، مثلاً سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، وغیرہ ہر چیز انسان کے لیے پرستش کا موضوع بن گئے۔ اس معاملے کو مذاہب کی تاریخ میں فطرت کی پرستش (nature worship) کہا جاتا ہے۔ مظاہر فطرت میں چوں کہ تعدد (diversity) تھا، اس لیے لوگوں کے معبود بھی متعدد ہوگئے۔ اسی تعدّدِ آلہہ کے تصور کو قرآن میں شرک کہا گیا ہے۔ اسی قسم کا انحراف امن کے معاملے میں پیش آیا۔ انسان اپنے مقصد کو پرامن جدوجہد کے بجائے، پرتشدد جدوجہد کے ذریعے حاصل کرنے لگا۔ اس طرح پوری تاریخ جنگ اور ٹکراؤ کی تاریخ بن گئی قبائلی سرداروں کے درمیان جنگ، راجاؤں کے درمیان جنگ، بادشاہوں کے درمیان جنگ، وغیرہ۔ فطرت کے نظام میں یہ انحراف حضرت نوح کے زمانے میں شروع ہوا۔ وہ مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم کا زمانہ آ گیا۔ نیا منصوبہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کا خلاصہ یہ تھا کہ نظریاتی طور پر انسان کے لیے توحید اور امن ہی واحد آپشن (option) کے طور پر باقی رہے۔ توحید اور امن کے سوا دوسرے آپشن کے لیے کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) باقی نہ رہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا تھا، البتہ یہ ممکن تھا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader