Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ انسان کے لیے اس معاملے میں نظریاتی جواز باقی نہ رہے۔ یہ منصوبہ معجزاتی طور پر اچانک ظہور میں نہیں آسکتا تھا، اس عالم امتحان میں یہی ممکن تھا کہ اس منصوبے کو اسباب کے ماحول کے تحت ظہور میں لایا جائے۔ چناں چہ ایسا ہی کیا گیا۔ اس منصوبے کے آخری مرحلے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) ۔ یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ کوئی سیاسی واقعہ نہیں ہے، وہ تمام تر ایک نظریاتی واقعہ ہے۔ اس میں اُس خدائی منصوبے کا ذکر ہے جس کا آغاز ہاجرہ اور اسماعیل سے ہوا اور اصحاب رسول پر اس کا ایک مرحلہ مکمل ہوا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں تاریخ میں یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ انسان کے لیے نظریاتی اعتبار سے، شرک کا آپشن ختم ہو گیا۔ اسی طرح نظریاتی اعتبار سے، انسان کے لیے جنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشنگ اتنی زیادہ پختہ ہو چکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد اللہ تعالی کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اس غیر آباد ماحول میں بسادیا۔ اس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی خصوصی جدوجہد کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری ہوا جو بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل کو پہنچا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page