معرفت الہی
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
کلماتِ رب کی دریافت معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ انسان حالتِ غیب میں اپنے رب کو پہچانے، وہ دیکھے بغیر اس کو دیکھ لے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی کا حسیاتی تجربہ ہونے لگے۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور معرفت کے حصول کی بھی ایک قیمت ہے، وہ قیمت بنیادی طور پر یہ ہے کہ آدمی پردۂ التباس (element of doubt) کو پھاڑ کر حقیقتِ اعلیٰ کو دیکھ سکے۔ پردہ التباس کو پھاڑنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹرکشن (distraction) سے بچائے، جو اپنے آپ کو کامل یکسوئی کے ساتھ معرفت کے حصول میں لگادے۔ ڈسٹرکشن میں ہر وہ چیز شامل ہے جو آدمی کی توجہ کو مقصدِ اعلیٰ سے ہٹانے والی ہو۔ اس میں ہر قسم کے منفی جذبات بھی شامل ہیں۔ مثلاً نفرت، تعصب، فخر، احساسِ برتری، اور خواہش کی پیروی، وغیرہ۔ انسان کو جو دماغ دیا گیا ہے، وہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، وہ کوئی عبث چیز نہیں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ آدمی اپنے دماغ کو ان فولڈ (unfold) کرے اور اس کو حقائقِ ربانی کی دریافت کے لیے استعمال کرے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کلماتِ رب (لقمان، 31:27) اتنے زیادہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ اسی کے ساتھ انسانی دماغ کے جوامکانات (potential) ہیں، وہ بھی لامودود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک فرد کے دماغ میں جتنے پارٹیکل ہوتے ہیں، وہ پوری کائنات میں موجود پارٹیکل کے برابر ہیں۔ انسان کو یہ غیر معمولی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اس کو استعمال کر کے معرفتِ اعلیٰ کو حاصل کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں اہل جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ (شغلِ فا کہ) یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلماتِ رب کو ابدی طور پر دریافت کرتے رہیں۔ موجودہ دنیا دراصل اس لیے ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنت کے اس لامحدود عمل کے لیے تیار (prepare) کرے۔ جنت کی سب سے بڑی خوشی حصولِ معرفت کی خوشی ہے۔ حصولِ معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، جنت میں جو مادی نعمتیں ملیں گی، وہ دراصل ضیافتِ ربانی کے طور پر ملیں گی (فصلت، 41:32)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader