معرفت دعوت
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی تاریخی پراسس (historical process) کے وہ نتائج ہیں جن کو ہم موجودہ زمانے میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً انسانی مساوات، مذہبی جبر کا خاتمہ، جمہوریت اور سائنسی انقلاب جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید کمیونیکیشن کا دور دنیا میں آیا۔ اِس کے علاوہ ،فطرت (nature) کے نئے حقائق دریافت ہوئے جو دین توحید کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھتے تھے۔ نظریاتی جواز کا خاتمہ اِس جدید انقلاب کے نتیجے میں جو موافق باتیں پیدا ہوئیں ، اُن میں سے دو خاص چیزیں یہ تھیں کہ نظریاتی طور پر تو حید اور امن کے سوا کوئی اور انتخاب انسان کے لیے باقی نہ رہا۔ سائنسی دریافتوں (scientific discoveries) کے نتیجے میں ایک طرف یہ ہوا کہ توحید اب ایک ثابت شدہ علمی حقیقت بن گئی۔ اب کوئی شخص اِس امتحان کی دنیا میں اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے توحید سے انحراف کر سکتا ہے، لیکن خالص اصولی اعتبار سے اس کے لیے اپنے انحراف کا کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) موجود نہ ہوگا۔ یہی معاملہ امن کے اصول کا ہے، جو کہ صحت مند سماجی تعمیر کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ مسلح طاقت ہی اصل طاقت ہے۔ کوئی بڑا مقصد صرف مسلح طاقت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جدید انقلاب کے ذریعے یہ قدیم مفروضہ یکسر بدل گیا ہے۔ اس تبدیلی کے دو خاص پہلو ہیں ایک ، یہ کہ موجودہ زمانے میں جدید حالات کے نتیجے میں ایک نئی چیز ظاہر ہوئی ہے جس کو ایک لفظ میں مواقع کا انفجار (opportunity explosion) کہا جا سکتا ہے۔ ان مواقع کو استعمال کر کے آج ہر مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اب کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ یا سیاسی طاقت کی قطعاً ضرورت نہیں۔ قدیم زمانے میں سیاسی ایمپائر (political empire) ہوا کرتے تھے، آج اُس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر غیر سیاسی ایمپائر (non-political empire) بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ دوسری چیز وہ ہے جس کو عمومی تخریب کے ہتھیار (weapons of mass

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader