Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

(destruction کہا جاتا ہے۔ ان نئے ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد اب جنگ انسان کے لیے سرے سے کوئی آپشن ہی نہ رہا۔ اب جنگ کا مطلب صرف تباہی ہے۔ اب کوئی بھی مثبت نتیجہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکता۔ اس طرح امن اب انسان کے لیے واحد آپشن (option) بن گیا۔ اب انسان کے لیے جو آپشن ہے، وہ امن اور جنگ کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ امن اور تباہی کے درمیان ہے۔ آج کے انسان کو یا تو امن کا طریقہ اختیار کرنا ہے یا اپنے آپ کو تباہی کے حوالے کر دینا ہے۔ اس طرح اب تاریخ انسانی کا سفر اُس مقام پر پہنچ گیا ہے جس کی طرف قرآن کی مذکورہ آیت (وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ) میں اشارہ کیا گیا تھا۔ تاریخ میں یہ انقلاب اتفاقی طور پر پیش نہیں آیا، وہ براہِ راست خدا کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ خدا نے تاریخی عمل (historical process) کو اس طرح مینیج (manage) کیا کہ وہ ایک ایسے انجام تک پہنچے جو دعوتِ حق کے کام کے لیے آخری حد تک موافق ہو۔ تاریخ کا کائنات کا پہلا دور کائنات کو اس کے خالق نے ایک بامقصد کائنات کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل ایک تدریجی اصول پر قائم ہے۔ اس لحاظ سے، یہ کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کی ابتدائی تاریخ 6 بڑے ادوار (periods) پر مبنی ہے۔ یہ 6 ادوار حسب ذیل ہیں: 1۔ بگ بینگ (Big Bang) 2۔ لٹل بینگ (Little Bang) 3۔ واٹر بینگ (Water Bang) 4۔ پلانٹ بینگ (Plant Bang) 5۔ انیمل بینگ (Animal Bang) 6۔ ہیومن بینگ (Human Bang) سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا (space) میں ایک عظیم دھماکہ ہوا جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اُس وقت کائنات کے تمام اجزا (particles) ایک سپر ایٹم کے اندر جمع تھے۔ اس سپر ایٹم (super atom) میں دھماکہ ہوا، اس کے بعد اس کے مادی اجزا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page