Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

وسیع خلا میں پھیل گئے۔ پھر یہ مادی اجزا مختلف اجسام کی صورت میں جمع ہوئے اور وہ مادی وجود میں آئی جس کو ستارے (stars) اور سیارے (planet) کہا جاتا ہے۔ غالباً ایک نلین سال پہلے ایک ستارہ (star) میں لٹل بینگ (Little Bang) کا واقعہ ہوا۔ اُس کے بعد اس ستارے کے مختلف ٹکڑے ہوگئے۔ اس کے بعد خلا (space) میں وہ مجموعہ بنا جس کو شمسی نظام (Solar System) کہا جاتا ہے۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) کے کنارے واقع ہے۔ اس کے بعد واٹر بینگ (Water Bang) ہوا، یعنی فضا میں موجود گیس (ہائڈروجن اور آکسیجن) کے ملنے سے پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی لمبے عرصے تک بارش کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر وہ گہرے سمندروں میں ذخیرہ (reservoir) کی صورت میں جمع ہوگیا۔ اس کے بعد پلانٹ بینگ (Plant Bang) ہوا، یعنی زمین کی سطح پر سبزہ اور درخت وجود میں آئے۔ سمندروں کے سوا زمین کی پوری سطح جو زمین کے تقریباً چوتھائی حصے پر مشتمل ہے، وہ سبزہ سے ڈھک گئی۔ اس کے بعد انیمل بینگ (Animal Bang) ہوا اور مختلف قسم کے حیوانات وجود میں آئے۔ سمندر میں مچھلیاں اور خشکی پر چرند و پرند بڑی تعداد میں پیدا ہوگئے۔ اس کے بعد ہیومن بینگ (Human Bang) ہوا۔ خالق نے انسان کو پیدا کر کے اُس کو زمین پر آباد کیا۔ یہاں سے سیارہ زمین کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی۔ اس تاریخ کو دوسرے الفاظ میں، تہذیب کی تاریخ (history of civilization) کہا جاتا ہے۔ انسان کے سوا جو کائنات ہے، وہ سب کی سب قانون فطرت (law of nature) کے تحت کام کرتی ہے۔ ہر چیز کی سرگرمیوں کے لیے خالق نے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت تمام چیزیں اپنا کردار (role) ادا کرتی ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ انسان کو اُس کے خالق نے کامل آزادی (complete freedom) عطا کی ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال۔ آزادی کے اسی صحیح یا غلط استعمال کی بنیاد پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page