معرفت دعوت
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
ہدایت کا انتظام یہی وہ مصلحت ہے جس کی بنا پر انسان کے لیے ہدایت کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ انسانوں کی ہر نسل کے درمیان خدا نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ ان پیغمبروں نے انسان کو بتایا کہ انسان کے لیے اس دنیا میں صحیح روش کیا ہے اور غلط روش کیا۔ پیغمبر نے بتایا کہ موت سے پہلے کی زندگی انسان کے امتحان کی زندگی ہے۔ موت کے بعد انسان کی ابدی زندگی (eternal life) شروع ہوگی، جہاں وہ اپنے عمل کے مطابق، یا تو انعام پائے گا یا وہ سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ پیغمبروں کی آمد کا یہ سلسلہ ہزاروں سال تک جاری رہا۔ مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ تمام پیغمبر صرف انفرادی اعلان (announcement) کے درجے میں اپنا کام کر سکے، اُن کا مشن اجتماعی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ اجتماعی انقلاب کا دور اس کے بعد تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ تقریباً ڈھائی ہزار سال کے عرصے میں یہ نسل بن کر تیار ہوئی۔ اس نسل کو تاریخ میں بنواسماعیل (Ishmaelites) کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں کے ذریعہ وہ گروہ بن کر تیار ہوا جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دعوت نبوت، اعلان سے آگے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ گئی۔ یہاں اس سلسلے کی چند مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے یہ واضح ہو سکے گا کہ دعوت نبوت کا اعلان سے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ جانے کا مطلب کیا ہے۔ 1 ۔ قرآن کی سورہ الانفال میں یہ آیت آئی ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) ۔ یہ آیت مدنی دور میں اتری۔ قرآن کی اس آیت میں ایک آنے والے مستقبل کی خبر دی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اصحاب رسول کی جدوجہد سے دنیا میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوگا۔ اس پر اس کی تکمیل یہ ہوگی کہ دین سب کا سب اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader