Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے ہوجائے۔ اس سے مراد دین کی سیاسی حکومت (political rule)نہیں ہے، بلکہ دین کا نظریاتی (ideological) غلبہ ہے، یعنی دین خداوندی کے سوا ہر دین کا غیر مدلل ہو جانا، دین خداوندی کے سوا ہر دین کا نظریاتی جواز (ideological justification) سے محروم ہو جانا۔ یہ واقعہ موجودہ زمانے میں مکمل طور پر پیش آ چکا ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے، اس لیے یہاں قیامت سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے ان کی آزادی چھین لی جائے۔ آزادی کے غلط استعمال کا موقع آدمی کے لیے پہلے بھی تھا اور وہ آج بھی باقی ہے۔ لیکن جہاں تک نظریاتی جواز (ideological justification) کی بات ہے، وہ دین خداوندی کے سوا کسی اور دین کے لیے باقی نہیں رہے گا۔ اس انقلابی عمل کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ہوا اور بیسویں صدی کے آخر میں یہ عمل اپنے اختتام تک پہنچ گیا۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ اکیسویں صدی میں جو کام کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دعوت حق کے لیے استعمال کیا جائے۔ 2- قرآن کی سورہ البقرہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (companions) کی طرف سے یہ دعا منقول ہوئی ہے: رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)۔ یعنی اے ہمارے رب، تو ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اس دعا میں ”ہم“ سے مراد صرف اصحاب محمد نہیں ہیں، توسيعی معنوں میں یہ دعا پوری امت محمد کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی گئی ہے، وہ یقینا پوری ہوئی، لیکن یہ اُسی وقت ساتویں صدی میں پوری نہیں ہوئی، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کے طور پر انسانی تاریخ میں جاری ہوئی اور وہ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر مکمل ہوئی۔ اب اکیسویں صدی میں حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ آج کے داعیان حق کو دعوت الی اللہ کے راستے میں نہ وہ مسائل (problems) پیش آئیں گے جو صحابہ سے پہلے کے داعیوں کو پیش آئے تھے اور نہ اُن کو اُن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اصحاب رسول کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی، تاریخ کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور اس کو دعوت کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page