معرفت دعوت
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال کریں۔ موجودہ زمانے میں دعوتِ حق کے لیے تمام رکاوٹیں کلی طور پر ختم ہوچکی ہیں۔ اب اگر کسی داعی کے لیے رکاوٹ پیدا ہو تو وہ یقینی طور پر اس کی اپنی کسی غلط پالیسی کا نتیجہ ہوگی، وہ ہرگز حالات کے تحت پیش آنے والی رکاوٹ نہیں ہوسکتی۔ 3۔ قرآن کی سورہ فصلت کے اعتبار سے، ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ امر پوری طرح ظاہر ہوجایگا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس عمل کا ذکر ہے جو صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد شروع ہوا۔ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں وہ علمی واقعہ پیش آیا جس کو تاریخ میں اسپرپچول کروسیڈس (spiritual crusades) کہا جاتا ہے۔ اس اسپرپچول کروسیڈ کے بعد یورپ کے تمام بڑے بڑے دماغ سائنسی تحقیق میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے فطرت کے پوشیدہ رازوں کو دریافت کیا۔ بیسویں صدی میں یہ عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب آفاق وانفس کے وہ تمام چھپے ہوئے حقائق علمی طور پر ایک معلوم واقعہ بن چکے ہیں جو قرآن کے الفاظ میں تبیینِ حق کے لیے ضروری تھے۔ اکیسویں صدی کے داعیوں کا کام یہ ہے کہ وہ ان سائنسی حقائق کو جانیں اور اُن کو دعوتِ حق کے لیے استعمال کریں۔ یہ سائنسی حقائق دعوت کو مسلّمۂ علمی سطح پر مدلّل کرنے والے ہیں۔ 4۔ قرآن کی سورہ الحج میں بتایا گیا ہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک اعلان عام کیا۔ اس کا ذکر قرآن کے ان الفاظ میں آیا ہے: وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (22:27)۔ یعنی تم لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمھارے پاس آئیں گے پیدل بھی اور لاغر اونٹنیوں پر بھی، جو پہنچی گی دور دراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔ قرآن کی اس آیت کا براہِ راست تعلق حج کے سفر سے ہے۔ لیکن توسعی طور پر اس میں یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader