Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

مفہوم شامل ہے کہ تدریجی عمل کے تحت ایک وقت آئے گا جب کہ لوگ دور دور سے سفر کر کے مکہ پہنچیں، یہاں تک کہ مکہ عالمی سفر کا مرکز بن جائے۔ قرآن کی اس آیت میں اشاراتی طور پر یہ بات موجود ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سفر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے اس پیشین گوئی کو واقعہ بنا دیا ہے۔ عالمی آمد و رفت اتنی بڑھی ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ساری دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں سیاحت (tourism) نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ایک مستقل ٹورسٹ انڈسٹری (tourist industry) وجود میں آگئی ہے۔ سیاحت اور تجارت، وغیرہ کے تحت روزانہ لوگ کروڑوں کی تعداد میں ادھر سے اُدھر جاتے ہیں۔ اس واقعہ نے موجودہ زمانے میں دعوت کا ایک نیا موقع کھول دیا ہے۔ اب دعوتی موقع روز مرہ کی زندگی میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہو رہا ہے کہ ہر روز کثیر تعداد میں داعی، مدعو کے علاقہ میں جاتا ہے اور مدعو، داعی کے علاقہ میں آتا ہے۔ اس صورتِ حال نے دعوت کے نئے عالمی مواقع کھول دئے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اہلِ ایمان ان نئے مواقع کو دریافت کریں اور اُن کو دعوت کے حق میں استعمال کریں۔ 5- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ یہ زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں کچھ لوگ جو آپ کے اوپر ایمان لائے، اُن کو وہاں مشرکین ستانے لگے۔ وہ ان کو جسمانی اذیت پہنچاتے۔ اُس وقت کچھ اہلِ ایمان نے پیغمبر اسلام سے اس صورتِ حال کی شکایت کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ان حالات کو ہمارے لیے ختم کر دے۔ اُس وقت رسول اللہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ یہ سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے یہ حال تھا کہ ایک مومن کے جسم پر لوہے کی کنگی کی جاتی تھی، اور اس کے سر پر آرا چلایا جاتا تھا، مگر اس قسم کی اذیت کے باوجود وہ اپنے دین پر قائم رہتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرَ، حَتَّى يَسِيرَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page