Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3612)۔ یعنی خدا کی قسم، یہ امر (اسلام) ضرور اپنی تکمیل تک پہنچے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک شخص سوار ہو کر صنعا سے حضرت موت تک جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا ڈر نہ ہوگا۔ اس حدیث میں صرف ایک زمانی واقعے کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ وہ مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد جو انقلاب آیا، اُس سے انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہو گا جو آخرکار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا دور ختم ہو جائے گا اور دنیا میں مذہبی آزادی کا دور شروع ہو جائے گا۔ اکیسویں صدی میں یہ پیغمبرانہ پیشین گوئی آخری حد تک واقعہ بن چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی اس زمانی حقیقت کو دریافت کریں اور پھر جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اس کے مطابق، دعوتِ حق کے کام کی منصوبہ بندی کریں۔ 6۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں توحید کا پیغام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ جائے گا۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) یعنی زمین کی سطح پر کوئی خیمہ یا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس خیمہ یا گھر کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ دراصل مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی، جب کہ یہ ممکن ہو جائے گا کہ اسلام کی دعوت ہر انسان تک پہنچ جائے، ہر چھوٹے یا بڑے گھر میں اسلام کا پیغام داخل ہو جائے۔ اس قسم کا عالمی ادخال کلمہ پر اسرار طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت واقع ہوگا۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب مکمل طور پر واقعہ بن چکے ہیں۔ آج وہ تمام مواقع (opportunities) کھل چکے ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کے مطابق، دعوتِ حق کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page