معرفت دعوت
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
کام کو عالمی سطح (global level) پر ممکن بنایا جاسکے۔ ضرورت ہے کہ آج کے اہل ایمان ان امکانات کو دریافت کریں۔ موجودہ زمانے کے اہل ایمان کی نسل گویا کہ ان تبدیلیوں کی وارث ہے۔ اُس پر فرض کے درجے میں یہ ضروری ہے کہ وہ شعوری طور پر ان تبدیلیوں کو جانیں اور اُن کو استعمال کرتے ہوئے مذکورہ حدیث کی پیشین گوئی کو واقعہ بنائیں۔ 7- دجال کے ظہور کے ذیل میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اُس وقت اہل ایمان کی جماعت میں سے ایک شخص اُس کے مقابلے کے لیے نکلے گا۔ اِس رجل مومن کے پاس تلوار یا اور کوئی اسلحہ نہیں ہوگا، لیکن اللہ کی توفیق سے وہ اِس مقابلے میں حجت اور برہان کے ذریعے دجال پر غالب آجاۓ گا۔ اس کے بعد حدیث کے الفاظ یہ ہیں: هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں، اور نہ وہ کوئی پراسرار واقعہ ہے۔ یہ دراصل اِس لمبے تاریخی عمل (historical process) کے نقطۂ انتہا (culmination) کو بتاتا ہے، جس کے نتیجے میں کسی رجل مومن کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ہتھیار استعمال کئے بغیر صرف دلیل کی طاقت سے دجالی فتنه (عظیم ترین شیطانی فتنه) کا خاتمہ کردے۔ اس قسم کا دعوتی موقع چوں کہ پہلی بار وجود میں آۓ گا، اس لیے اُس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت (greatest witness) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عظیم دعوتی موقع اکیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح ظہور میں آچکا ہے۔ آج کے اہل ایمان پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ ان جدید امکانات کو دریافت کریں اور پرامن منصوبہ کے ذریعے اُس کو استعمال کرتے ہوۓ وہ عظیم دعوتی رول انجام دیں جس کا آج کی تاریخ کو انتظار ہے۔ 8- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے : إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6630)۔ یعنی جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔ اور جب کسریٰ ہلاک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader