Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسر ی نہ ہوگا۔ اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا تعلق ایک بادشاہ کے خاتمے سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ایک دور کے خاتمہ سے ہے۔ اس حدیث میں دراصل یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوگا جو آخر کار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں شخصی حکمرانی (dynasty) کا دور ختم ہو جائے گا اور عوامی حکمرانی (democracy) کا دور آ جائے گا۔ اسی طرح ایک اور حدیث رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اہل ایمان پیش قدمی کرتے ہوئے ایک شہر تک پہنچیں گے ۔ وہ نہ کسی ہتھیار سے جنگ کریں گے اور نہ تیر چلائیں گے ۔ وہ صرف لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر کہیں گے اور شہر کی دیواریں گر جائیں گی، یہاں تک کہ وہ اس کے اندر داخل ہو جائیں گے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2920) ان روایات میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوگا۔ اس عمل کا نقطہ انتہا یہ ہوگا کہ دنیا سے مطلق العنان بادشاہت (dictatorship) کا دور ختم ہو جائے گا، یعنی وہ دور ختم ہو جائے گا جب کہ سیاسی طاقت ہی اصل طاقت ہوا کرتی تھی ۔ اس کے بعد وہ حالات پیدا ہوں گے جب کہ نظریہ (ideology) کو طاقت کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ پرامن فکری جدوجہد کے ذریعے اُن مقاصد کو حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا جن کو پہلے صرف سیاسی طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا تھا۔ یہ انقلابی دور اب دنیا میں پوری طرح آچکا ہے ۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف طاقت کاڈی سنٹرلائزیشن (de-centralization of power) پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ آج وہ دور ختم ہو چکا ہے جب کہ طاقت صرف ایک سیاسی حاکم کے پاس ہوا کرتی تھی ۔ اب ہر انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ سیاسی عہدہ (political seat) پر قابض نہ ہوتے ہوئے بھی جس مقصد کے لیے چاہے کام کرے ۔ وہ ہتھیار کا استعمال کیے بغیر صرف امن کی طاقت سے اپنے مطلوب کو حاصل کر سکے۔ اسی طرح یہ پیشین گوئی بھی موجودہ زمانے میں پوری طرح ایک واقعہ بن چکی ہے کہ لا الہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page