Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت اور وحدتِ وجود معرفت اس دنیا کی سب سے بڑی یافت ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ پوری تاریخ میں معرفت کے بارے میں لوگوں کو ایک شدید مغالطہ ہوا ہے۔ انسان کو جب اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، تو یہ اُس کے لیے ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہوتا ہے۔ انسانی زبان میں اِس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ اِس معرفت کا ایک پہلو یہ ہے کہ کسی انسان کو اِس کا تجربہ ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خدا کے اتنا قریب آگیا ہے جیسے کہ اس کی ہستی خدا کی ہستی میں شامل ہو گئی ہے۔ تاہم یہ تمام تر ایک نفسیاتی تجربہ ہوتا ہے۔ لوگوں نے شدید غلط فہمی کی بنا پر اس تجربہ کو وجودی قربت (physical nearness)، یا وجودی اتحاد (physical emergence) کے معنیٰ میں لے لیا۔ اِس سے وحدتِ وجود (monism) کا نظریہ پیدا ہوا۔ نفسیاتی قربت کی حد تک یہ حقیقتِ اعلیٰ کے ادراک کی بات تھی، لیکن وحدتِ وجود کے نظریے کی صورت میں وہ سرتا پا ایک باطل چیز بن گئی۔ اِس مشکل کو حل کرنے کے لیے شیخ احمد سرہندی نے وحدتِ شہود کا نظریہ ایجاد کیا۔ اِسی طرح ابن عربی نے کہا: العبد عبدٌ، وإن ترقى والربُّ ربٌ، وإن تنزّل مگر میرے نزدیک، یہ دونوں باتیں صرف کنفیوژن (confusion) کا کیس ہیں، وہ اصل معاملے کی حقیقی توضیح نہیں۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی فطرت میں ربانی شعور پیوست کر دیا ہے۔ وہ انسان کے لاشعور میں مسلسل موجود رہتا ہے۔ اِسی لاشعور کو شعور میں لانے کا نام معرفت ہے۔ یہ صرف ایک دریافت ہے، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی مماثلت نہیں۔ معرفت کا معاملہ تمام تر دریافت کا معاملہ ہے۔ معرفت ایک خارجی حقیقت کی شعوری دریافت ہے۔ تاہم یہ دریافت سائنسی دریافت کی طرح محض ایک ٹکنکل دریافت نہیں۔ یہ دریافت آدمی کو حقیقت کے سمندر میں غرق کر دیتی ہے۔ اِس نفسیاتی معاملے کی غلط توجیہہ کے نتیجے میں وحدتِ وجود (monism) یا دوئیت واد کا نظریہ پیدا ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page