معرفت دعوت
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
الَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر کا مشن لے کر اٹھنے والے لوگ کسی قسم کا مسلح ٹکراؤ کے بغیر شہروں میں نُفوذ کریں اور لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائیں۔ حدیثِ رسول کی اِس پیشین گوئی کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جا سکتا ہے دَورِ شمشیر کا خاتمہ، دَورِ دعوت کا آغاز۔ اکیسویں صدی میں اب اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس تاریخی تبدیلی کو دریافت کریں، وہ ان جدید امکانات کو استعمال کر کے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی سطح پر انجام دیں۔ موجودہ زمانے میں ایک عظیم دعوتی امکان پیدا ہوا ہے، مگر اس عظیم دعوتی امکان کو صرف وہی لوگ استعمال کر سکیں گے جو اپنے شعور کے اعتبار سے اْس کے فکری وارث بن سکیں ۔ 9۔ قرآن کی سورہ النساءِ میں داعیانِ اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: أُوْلَئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيغًا (4:63) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اْس سے خوب واقف ہے۔ پس تم اُن سے اعراض کرو اور اْن کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے : Speak to them in such terms as will address their minds. قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قدیم زمانہ روایتی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب بھی مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا بن سکتا تھا، مگر آج کا دَور تعقل کا دَور (age of reason) ہے۔ آج کے انسان کا مائنڈ صرف اُس وقت ایڈریس ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے کسی بات کو عقلی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک پہلو ہے کہ جب وہ ایک چیز کا حکم دیتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اْس کے اسباب بھی فراہم کر دیتا ہے۔ اسلامی دعوت، اہلِ ایمان کی ابدی ذمے داری ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی اہلِ ایمان کو اُسی طرح اپنا دعوتی فریضہ انجام دینا ہے جس طرح دورِ قدیم کے اہلِ ایمان نے اِس فریضے کو انجام دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے داعیانِ حق کی اِس ضرورت کو سمجھا اور موجودہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader