معرفت دعوت
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانے میں عالمی سطح پر وہ فکری تبدیلی پیدا کردی جس کو استعمال کرکے اسلامی دعوت کو عقلی اسلوب میں پیش کیا جاسکے۔ اسلام کے بعد کے زمانے میں ایک فکری عمل شروع ہوا۔ اکیسویں صدی میں یہ فکری عمل اپنے نقطہ اختتام تک پہنچ چکا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو اُس اعلیٰ عقلی اسلوب پر پیش کیا جاسکے جو دورِ جدید کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ ضرورت ہے کہ آج کے داعیانِ حق اِس حقیقت کو جانیں اور اس کو جدید دور میں دعوتِ حق کے لیے استعمال کریں۔ 10 - پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ تعالیٰ ضرور اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ اِس حدیثِ رسول میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق ایک پوری تاریخ سے ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے عرب میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اِس عمل کا نشانہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں جس کے بعد اسلامی دعوت کو اس کی اعلیٰ ترین سطح پر انجام دینا ممکن ہوجائے۔ حقائقِ ربانی کے عالمی اظہار کے تمام ممکن ذرائع وجود میں آجائیں، تا کہ دورِ آخر کے اہلِ ایمان اتمامِ حجت کی سطح پر دعوتِ حق کا کام انجام دے سکیں۔ یہ منصوبہ کوئی معمولی منصوبہ نہ تھا۔ یہ تاریخ کے رخ (cause of history) کو انقلابی طور پر بدل دینے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں سال سے جاری روایتی دور ختم ہو جائے اور ایک نیا دور شروع ہو۔ یہ وہی دور ہے جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اس دور کو وجود میں لانا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ اتنا بڑا کام تھا جس کو تنہا اہل ایمان انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ضرورت تھی کہ اس میں پوری انسانیت شامل ہو، حتیٰ کہ ایسے محرکات پیدا ہوں کہ فاجر (secular) طبقہ بھی اِس عمل میں یکساں طور پر شریک ہوجائے۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں اسی عمومی انسانی عمل کا ذکر کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی آخری حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ لمبے تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader