Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

منصوبہ پوری طرح کامیاب ہوا۔ بنو اسماعیل کی اسی نسل میں پیغمبر اسلام پیدا ہوئے اور اسی نسل میں کام کر کے آپ کو ساتھیوں کی وہ ٹیم حاصل ہوئی جس نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اصحابِ رسول کا دور اصحابِ رسول سے مراد اصحابِ محمد ہیں۔ اصحاب محمد، پیغمبروں کی تاریخ میں ایک مستثنیٰ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی اجتماعی کوشش سے، تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا کہ توحید کے مشن کو دعوت کے مرحلے سے آگے بڑھا کر، انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا۔ اصحاب رسول کی کوششوں سے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ بعد کے تمام سماجی اور سیاسی اور سائنسی انقلابات اسی تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔ مسلم تہذیب کا دور مسلم تہذیب کے دور سے مراد وہ دور ہے جو رسول اور اصحابِ رسول کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد شروع ہوا۔ یہ دور مکہ اور مدینہ میں شروع ہوا، پھر دمشق اور بغداد اور قرطبہ ہوتے ہوئے وہ مغربی یورپ تک پہنچ گیا۔ اس دور کو مسلم تہذیب کا دور کہا جا سکتا ہے۔ مسلم تہذیب کے دور میں، فطرت (nature) کو پرستش کے بجائے تدبر اور تسخیر کا موضوع بنایا گیا۔ جن ستاروں کو اس سے پہلے انسان دیوتا سمجھ کر پوجتا تھا، ان کے مطالعے اور مشاہدے کے لیے مسلم شہروں میں رصد گاہیں قائم ہوئیں، وغیرہ۔ مسلم تہذیب کے رول کا اعتراف مورخین نے واضح طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر برِفالٹ (Robert Briffault) نے لکھا ہے کہ یہ بہت زیادہ قرین قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہ آتی: It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. (The Making of Humanity, p. 202) مغربی تہذیب کا دور مغربی تہذیب (western civilization) کو عام طور پر قدیم یونانی تہذیب کی نشاة

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page