معرفت دعوت
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے، مگر یہ انتساب درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید مغربی تہذیب دراصل قدیم مسلم تہذیب کی نشاة ثانیہ ہے۔ مغربی تہذیب نے اُس سائنسی علوم کو تکمیل تک پہنچایا، جس کا آغاز مسلم تہذیب کے زمانے میں ہوا تھا۔ مغربی تہذیب نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین (laws of nature) کی دریافت کرکے یہ کیا کہ اسلام کی صداقت اور اسلام کی دعوت کے تمام امکانات اعلیٰ ترین سطح پر کھول دئے۔ غالباً یہی تاریخی واقعہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ اس حدیث رسول میں جس تائیدِ دین کا ذکر ہے، اُس سے مراد تہذیب (civilization) کے ذریعے وجود میں آنے والی تائید ہے، یعنی فکر وعمل کی سطح پر دین حق کے لیے تمام مواقع کا کھل جانا۔ تائید دین کے اس واقعے کا ابتدائی نصف حصہ مسلم تہذیب کے زمانے میں پیش آیا، اور تائید دین کے اس واقعے کا بقیہ نصف حصہ مغربی تہذیب کے ذریعے انجام پایا۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں، فاجر انسان سے مراد دراصل سیکولر انسان ہے۔ اخوان رسول کا دور اخوانِ رسول سے مراد امتِ محمدی کا وہ دوسرا گروہ ہے جو تاریخِ انسانی کے آخری دور میں قیامت سے پہلے غالباً اکیسویں صدی میں ظاہر ہوگا۔ وہ حالات کے اعتبار سے اکیسویں صدی عیسوی میں وہی دعوتی جہاد کرے گا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول نے اپنے حالات کے اعتبار سے انجام دیا تھا۔ اصحابِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے وارث بنے تھے۔ اخوانِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کے وارث ہوں گے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں میں سے کسی کا کام پُراسرار کام نہیں ہوگا، بلکہ دونوں ہی کا یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے معلوم مواقع کو دریافت کریں گے اور اُن کو استعمال کرکے انسانیت کے معاملے میں خدا کے منصوبہ کو پورا کریں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader