معرفت دعوت
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
اخوانِ رسول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ، دورِ آخر میں اہلِ ایمان کے درمیان ایک دعوتی گروہ ظاہر ہوگا۔ حدیث میں اِس گروہ کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : وَوَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُوا : أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:« أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر 249) ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے اخوان ( بھائیوں ) کو دیکھوں ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان ( بھائی ) نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں ، بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہوں گے جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دینِ توحید کی جو تاریخ شروع ہوئی ، اُس میں دو گروہ ایسے ہیں جن کے لیے مقدر تھا کہ وہ دینِ توحید کے دعوتی اظہار میں نمایاں رول ادا کریں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول نے ساتویں صدی کے نصف اول میں اپنا خصوصی رول ادا کیا۔ موجودہ زمانے میں دعوت و اظہارِ دین کا یہی رول وہ دوسرا گروہ انجام دے گا جس کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ کا رول پر اسرار کرامت کے طور پر نہیں ہوگا ، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت ہوگا۔ دونوں زمانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے دونوں گروہ اپنا مطلوب رول انجام دیں گے۔ دونوں گروہ دراصل دو الگ الگ تاریخی عمل کے نقطہ انتہا (culmination) ہوں گے۔ اخوانِ رسول کی صفات اخوانِ رسول کی دو خاص صفتیں ہوں گی ایک صفت کا تعلق معرفتِ دین سے ہے ، اور دوسری صفت کا تعلق دعوت دین سے ۔ یہ دونوں صفات یکساں طور پر ضروری ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک صفت کا فقدان بھی کسی گروہ کو اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کے لیے نااہل بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader