معرفت دعوت
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
خوش قسمتی حاصل کرنا چاہتے ہوں ، ان کو چاہیے کہ وہ عصرِ حاضر کو سمجھیں اور جدید مواقع کو استعمال کر کے وہ رول ادا کریں جو اخوانِ رسول کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ اصحابِ رسول کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں تین خاص امکانات فراہم کیے گئے تھے۔ اکیسویں صدی عیسوی میں اخوانِ رسول کے لیے بھی جدید حالات کے اعتبار سے تین خاص مواقع پوری طرح فراہم ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کچھ باحوصلہ اہلِ ایمان ان مواقع کو دریافت کریں اور اپنے حکیمانہ عمل کے ذریعہ اس امکان کو واقعہ بنائیں ۔ ان تینوں امکانات کو حسبِ ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے : 1۔ متلاشی حق نسل (seeker generation) 2۔ الیکٹرانک مرکز(electronic centre) 3۔ امن اور کشادہ رزق (peace and plenty) متلاشی حق نسل مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، حق کے متلاشی (truth seeker) لوگ تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حُنفاء کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔ انھیں حُنفاء میں سے ایک زید بن عمر بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمرو بن نَفیل کو دیکھا ہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، اور یہ کہہ رہے تھے: اَللَّهُمَّ إِنِّي لَوْ أَعْلَمُ أَبَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَيْكَ عَبَدْتُكَ بِهِ، وَلَكِنِّي لَا أَعْلَمُ (السيرة النبوية لابن کثیر، جلد 1، صفحه 154)۔ یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اس کو نہیں جانتا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر بنواسماعیل کے تقریباً تمام افراد کا یہی حال تھا۔ اپنی خصوصی صحرائی تربیت کے نتیجے میں یہ لوگ متلاشی حق (truth seeker) تھے، نہ کہ منکر حق۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے اُن کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ابتدا میں اُن کی مخالفت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader