Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

بے خبری کی بنا پر تھی ، نہ کہ حقیقتاً سرکشی کی بنا پر۔ موجودہ زمانے کی جدید نسل کا کیس بھی عام طور پر یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب اور دوسرے فکری انقلابات کے نتیجے میں لوگوں کا جو ذہن بنا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے منکر حق کا کیس نہیں ہے ، بلکہ وہ متلاشی حق (truth seeker) کا کیس ہے۔ اس معاملے کو ایک حالیہ مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک انگریز جوڑ مغربی تہذیب سے غیر مطمئن تھا۔ آخر کار دونوں لندن چھوڑ کر دہلی آ گئے۔ دہلی میں آج کل وہ بیمار حیوانات کا ایک اسپتال چلا رہے ہیں۔ وہ حیوانات کی خدمت میں اپنے لیے اطمینان تلاش کر رہے ہیں۔ ہماری دعوتی ٹیم کے ایک صاحب اُن سے ملے اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ اُنھوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور کہا کہ میں اس کو ضرور پڑھوں گا۔ اُنھوں نے کہا کہ بی میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ میں سچائی کے دوسرے تصور کو جانوں: I always wanted to know another version of the truth. یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ نئے افکار اور نئے تجربات نے اُن کو شعوری یا غیر شعوری طور پر سچائی کا متلاشی بنا دیا ہے۔ یہ صورت حال اکیسویں صدی کے اخوانِ رسول کو عین وہی موقع فراہم کر رہی ہے جو ساتویں صدی کے اصحابِ رسول کے حصے میں آیا تھا۔ جو لوگ اس موقع کو دریافت کرکے اس کو استعمال کریں ، وہی دراصل اخوانِ رسول کا رول ادا کریں گے۔ الیکٹرانک مرکز دعوتی کام کو منظم کرنے کے معاملے میں بھی یہی امکان پوری طرح پیدا ہو چکا ہے۔ قدیم زمانے میں کوئی دعوتی کام عملاً صرف محدود علاقے میں ہو سکتا تھا۔ حدیث کے الفاظ میں، آج یہ مطلوب ہے کہ سطح زمین کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اسلام کا کلمہ داخل کر دیا جائے (لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ) مسند احمد، حدیث نمبر 23814۔ اس سے کم درجے کے کسی کام کو مطلوب درجے کا کام قرار نہیں دیا جاسکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page