معرفت دعوت
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں جو دعوتی کام مطلوب ہے، وہ عالمی دعوت کا کام ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالی نے موجودہ زمانے میں ایسے حالات پیدا کئے جس کی بنا پر پوری دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن گئی۔ آج یہ ممکن ہو گیا کہ جدید وسائل کو استعمال کر کے عالمی دعوت کا کام کیا جائے۔ آج عالمی دعوت کے مشن کو مقامی مرکز درکار نہیں ہے، بلکہ اس کو عالمی مرکز درکار ہے۔ خدا کی خصوصی نصرت کا یہ امکان آج پوری طرح وجود میں آ چکا ہے۔ اس امکان کو ایک لفظ میں، دعوت کا الیکٹرانک سنٹر کہا جا سکتا ہے۔ دور جدید کا الیکٹرانک سنٹر بظاہر ایک محدود رقبہ زمین پر ہوگا، لیکن اپنے دعوتی رول کے اعتبار سے وہ عالمی سطح پر اپنے کام کو منظم کرنے کا اہل ہوگا۔ امن اور کشادہ رزق امن اور رزق کی کشادگی کے اعتبار سے بھی یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ پورے معنوں میں وہ زمانہ ہے جب کہ امن اور رزق کی کشادگی دونوں کے مواقع پوری طرح حاصل ہو چکے ہیں۔ اصولی طور پر آج کے انسان کے لیے صرف امن کا چوائس (choice) باقی رہا ہے۔ تشدد اور جنگ کا چوائس اب اصولی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) کے وجود میں آنے کے بعد اب صرف پرامن طریقہ کار کے ذریعے کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اب متشددانہ طریقہ کار کے ذریعے کسی مثبت مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں رہا۔ مزید یہ کہ آج مذہبی آزادی (religious freedom) کا حق ایک مطلق حق کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے جارحانہ انداز اختیار نہ کرے تو وہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر دعوتی کا کام انجام دے سکتا ہے۔ گویا کہ قدیم عرب (قریش) کو جو امن محدود طور پر کعبہ کی نسبت سے ملا تھا، وہ امن اب جدید دنیا میں ایک زمانی انقلاب کے نتیجے میں عالمی سطح پر حاصل ہو چکا ہے۔ یہی معاملہ رزق کی کشادگی کا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل اسلام کے لیے رزق کی کشادگی کا واقعہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے جیسا واقعہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کشادگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے تیل کا خزانہ دریافت ہو گیا۔ کہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader