معرفت دعوت
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے کہ دنیا کے تیل کے ذخائر کا 75 فیصد حصہ مسلم ملکوں میں واقع ہے۔ دوسری طرف، جدید صنعتی انقلاب نے کسب رزق کے مواقع سیکڑوں گنا زیادہ بڑھادئے ہیں۔ اگر اہل اسلام اپنی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا نہ کریں تو آج وہ دعوت الی اللہ کا کام رزق کی فراوانی کے ماحول میں انجام دے سکتے ہیں، جب کہ پچھلے لوگوں کو رزق کی تنگی کے ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا پڑتا تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ جدید دور (modern age) ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ ایک لفظ میں، اس کو روایتی دور کا خاتمہ اور غیر روایتی دور کا ظہور کہہ سکتے ہیں۔ آج کا دور فکر و عمل کے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے کامل طور پر ایک بدلا ہوا دور ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ قدیم زمانے کا آدمی اگر اچانک زندہ ہو کر آج کے زمانے میں آئے تو وہ سمجھے گا کہ شاید میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ یہاں کی ہر چیز اس کو ناقابل قیاس حد تک بدلی ہوئی دکھائی دے گی۔ جدید تبدیلی کا مقصد یہ تبدیلیاں دنیا میں کس لیے آئی ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو آرام و عیش فراہم کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان تمام مواقع اور ان تمام امکانات کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا کام اتنا زیادہ مطلوب کام ہے کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے پورے دور کو بدل دیا۔ موجودہ زمانے میں زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہر اعتبار سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ تبدیلیاں تمام تر دعوت الی اللہ کے حق میں ہیں۔ یہ تبدیلیاں دعوت الی اللہ کے کام ہی کے لیے ظہور میں آئی ہیں۔ جو لوگ ان تبدیلیوں کو جانیں اور اُن کو بھر پور طور پر دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے استعمال کریں، وہی آخری دور کے وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ ادخال کلمہ اخوان رسول کو جو کام کرنا ہے، اس کو واحد نام دینا ہو تو وہ ادخال کلمہ ہوگا۔ حدیث میں اس سلسلے میں أدخله اللہ کلمة الإسلام کا لفظ آیا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ادخال کلمہ کے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader