معرفت دعوت
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
عمل میں مدخل خود اللہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اسباب خود اللہ کی طرف سے مہیا کئے جائیں گے جو عالمی ادخال کلمہ کے لیے ضروری ہیں۔ ادخال کلمہ کا پورا پر اسس خدا کی طرف سے ہوگا۔ اخوان رسول کو صرف یہ سعادت ملے گی کہ وہ اس عمل کا ایک شعوری حصہ قرار پائیں۔ دعوت الی اللہ کا کام ہمیشہ خدا کی نصرت خاص کے تحت انجام پاتا ہے۔ تاریخ کے آخری دور میں دعوت الی اللہ کا جو کام ہوگا، وہ بھی خدا کی خصوصی نصرت کے تحت انجام پائے گا۔ یہ نصرت خاص ہمیشہ معجزہ کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس معاملے میں، معجزہ سے کم درجے کی کوئی چیز نصرت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ البتہ یہ فرق ہے کہ قدیم زمانے میں دعوت کے حق میں یہ معجزاتی نصرت خرق عادت کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی، اب موجودہ زمانہ میں یہ معجزاتی نصرت اسباب کی صورت میں ظاہر ہوگی، یعنی تاریخی عمل کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے انفجار مواقع (opportunity explosion) کے ذریعے ۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قدیم زمانے کے داعیوں کو جو نصرت بذریعہ معجزات دی گئی تھی، موجودہ زمانہ کے داعیوں کو وہ نصرت پورے دور کی تبدیلی کی صورت میں فراہم کردی گئی ہے۔ قدیم داعیوں کو یہ نصرت اگر وقتی معجزہ کے ظہور کے ذریعے ملی تھی، تو آج کے داعیوں کے لیے یہ نصرت پورے دور کو اُن کے موافق بنانے کی صورت میں عطا کر دی گئی ہے۔ ہندوستان میں خصوصی مواقع ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ، وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175)۔ یعنی میری امت میں دو گروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا، اور دوسرا گروہ وہ ہے جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ہوگا۔ اس حدیث رسول میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ دورِ آخر میں دعوت الی اللہ کا جو کام مقدر ہے، وہ غالباً ہندوستان میں انجام پائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader