معرفت دعوت
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت الی اللہ کا یہ کام قیامت سے پہلے ہوگا۔ اس کام کی انجام دہی کے بعد قیامت آجاۓ گی اور انسان کے لیے دوسرا دورِ حیات شروع ہو جاۓ گا، جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جاۓ ، اور ایک گروہ کے لیے انعام اور دوسرے گروہ کے لیے سزا کا فیصلہ کیا جاۓ ۔ موجودہ زمانے میں دنیا میں تقریباً 200 ممالک ہیں۔ اُن میں سے ایک ہندوستان ہے۔ مختلف ممالک کے حالات کو دیکھتے ہوۓ یہ بات بہت زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ قیامت سے پہلے دعوت الی اللہ کا جو آخری کام ہونے والا ہے، اس کا مرکز غالباً ہندوستان ہوگا۔ دعوت الی اللہ کا یہ کام عالمی سطح پر انجام پاۓ گا، لیکن مرکزِ عمل کے اعتبار سے ، ہندوستان کو اُس میں خصوصی مقام حاصل ہوگا۔ کسی ملک کے حالات بہ ظاہر اس قابل نہیں ہیں کہ وہاں کامیابی کے ساتھ دعوت الی اللہ کا کام انجام دیا جا سکے ۔ البتہ مختلف اسباب نے ہندوستان کو ایک خصوصی اہمیت دے دی ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام موثر طور پر انجام دینے کے لیے ہندوستان واحد ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ ہندوستان وہ واحد ملک ہے جہاں پیغمبرِ اسلام کی مذکورہ پیشین گوئی واقعہ بن سکے۔ دور کی تبدیلی قرآن کی سورہ النور میں اہل ایمان کے لیے استخلاف فی الارض (النور، 24:55) کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل کے لیے یہ خبر دی گئی ہے خدا اہل ایمان کی حالتِ خوف کے بعد اُس کو امن سے بدل دے گا (وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ) ۔ قرآن کی اس آیت میں جس تبدیلی کا ذکر ہے، اس کا تعلق نہ صرف سیاسی تبدیلی سے ہے اور نہ صرف زمانی تبدیلی سے ۔ اس آیت میں دراصل دور کی تبدیلی کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دورِ اول میں اسلام کے ذریعے جو انقلاب آیا، اُس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک پراسس (process) جاری ہوا۔ یہ پراسس آخر کار اس انجام تک پہنچے گا کہ دنیا سے خوف کا دور ختم ہو جاۓ اور امن کا دور قائم ہو جاۓ۔ اس کے بعد اہل ایمان توحید کے مشن کو مذہبی آزادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader