Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ماحول میں انجام دینے کے قابل ہو جائیں گے ، جب کہ اس سے پہلے توحید کے مشن کو مذہبی جبر کے ماحول میں انجام دینا پڑتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ تبدیلی مکمل طور پر آچکی ہے۔ بیسویں صدی مذکورہ تاریخی پراسس کے نقطہ انتہا (culmination) کی صدی ہے۔ اب لڑائی یا متشددانہ طریقہ کار کا مل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) طریقہ بن چکا ہے۔ اب اگر اہلِ ایمان کو دوبارہ خوف‘ کی حالت پیش آئے گی تو وہ خود اُن کی اپنی غلط پالیسی کی بنا پر پیش آئے گی ، نہ کہ زمانی حالت کی بنا پر۔ دُور کی یہ تبدیلی پرامن دعوتی مشن کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں اور بدستور متشددانہ کارروائی کرتے رہیں ، وہ اپنے بارے میں اندھے پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ اندھا پن اتنا زیادہ سنگین ہے کہ اُس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں کفر وانکار کا نام دیا گیا ہے۔ لسانِ قوم میں دعوت قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4) یعنی خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔ قرآن کی اس آیت میں لُسان سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسانِ قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت (الانعام، 80-6:76) سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔ موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے ، آج کی انٹرنیشنل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page