تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر باقی رہے گی ۔ اس کے علاوہ، تزکیہ کے حصول کی ایک عملی شرط بھی ہے، اور وہ ہے اپنے زمانے کے کسی رہنما یا مرشد کو تلاش کرنا اور اس کے علم اور اس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا۔ آدمی کو جب کوئی مرشد مل جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ بلاشرط اس کو اپنا مرشد بنالے۔ مرشد کو مشروط طور پر ماننا تزکیہ کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے، نہ کہ مددگار۔ جب ایک شخص یہ کہے کہ میں نے فلاں انسان کو اپنا غیر مشروط رہنما مان لیا، تو اس کا مطلب اندھا مقلد بننا نہیں ہوتا، اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ شعوری ارتقا کے نتیجے میں دو انسانوں کا ویولینتھ (wavelength) ایک ہوگیا۔ یہ ذہنی ہم آہنگی کا واقعہ ہے، نہ کہ ذہنی تقلید کا واقعہ۔ اصل یہ ہے کہ حقیقتِ نفس الامری میں تعدد نہیں ہوتا، اس لیے جب دو انسان اصل حقیقت تک پہنچ جائیں تو فطری طور پر ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے فکری توأم (intellectual twin) بن جاتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے رہنما یا مرشد لازمی طور پر ضروری ہے، لیکن مرشد کی اہمیت عملی ہے، نہ کہ اعتقادی۔ مرشد کی اہمیت دراصل ایک عمومی سنت اللہ کے تحت ہے۔ اس سنت اللہ کو سورہ الزخرف کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا (43:32)۔ یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تا کہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کو قائدانہ صفات کے ساتھ پیدا کرے۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ ایک شخص کو قائد بناتا ہے اور دوسروں سے یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ خدا کی سنت کے مطابق ، یہی زندگی کا فطری نظام ہے۔ مرشد کا معاملہ بھی اسی سنت اللہ کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ خصوصی اہتمام کے ذریعے کسی کو مرشد کے مقام پر کھڑا کرتا ہے۔ دوسروں کا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اُس سے استفادہ کرتے ہوئے تزکیہ کا مقصد حاصل کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں ، وہ گویا کہ فطرت کی ایک آزمائش میں ناکام ہوگئے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader