تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
مرشد کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ یہ ایک معلوم عقلی معاملہ ہے۔ غور و فکر کے ذریعے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مرشد سے جو چیز ملتی ہے، وہ پراسرار فیض نہیں ہے، وہ وہی چیز ہے جس کو عام طور پر تربیتی استفادہ کہا جاتا ہے۔ مرشد ایک زندہ رہنما ہوتا ہے، نہ کہ پراسرار طور پر کوئی مقدس شخصیت۔ تزکیہ کے لیے ربط کی اہمیت تزکیہ لیے صحبت (companionship) ایک مددگار ذریعہ ہے۔ قدیم زمانے میں صحبت کا ذریعہ صرف ایک تھا، اور وہ ہے براہِ راست ملاقات۔ موجودہ زمانہ مواصلات (communication) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کوئی شخص دور رہتے ہوئے بھی اپنے مز کی یا مربی سے صحبت کا فائدہ حاصل کر سکے۔ اس ربط کا ذریعہ خط و کتاب اور انٹرنیٹ اور ٹیلی فون، وغیرہ ہیں۔ اسی کا ایک ذریعہ ٹیلی کاؤنسلنگ (tele-counselling) بھی ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں تزکیہ کا طالب ہو تو یہ چیزیں اس کے لیے صحبت کا بدل بن جائیں گی۔ انھیں جدید ذرائع میں سے ایک پرنٹنگ پریس ہے۔ پرنٹنگ پریس نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ ماہانہ یا غیر ماہانہ میگزین کے ذریعے مسلسل طور پر تزکیہ کا مواد حاصل کیا جاتا رہے۔ موضوع سے متعلق مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔ اس طریقے کی اہمیت خود قرآن سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کے الفاظ ہیں: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (96:4)۔ یعنی قلم کے ذریعہ لکھی ہوئی کتابوں سے دین کو اخذ کرنا۔ مطالعہ کی اہمیت ایک پہلو سے، صحبت سے بھی زیادہ ہے۔ صحبت میں آدمی کسی بات کو اپنے مرشد سے ایک بار سنتا ہے، لیکن کتاب کی صورت میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ بار بار اس کا مطالعہ کرے، وہ بار بار اس کو سامنے رکھتے ہوئے اُس پر غور و فکر کرے، وہ اس کو لے کر دوسروں سے اُس پر مذاکرہ (exchange) کرے ۔ یہ ایک ایسا فائدہ ہے جو صرف کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ تزکیہ کے لیے رابطہ انتہائی حد تک ضروری ہے، یعنی مرشد سے مسلسل طور پر استفادہ کرتے رہنا، اپنے مسائل مرشد کو بتا کر اُس سے رہنمائی حاصل کرنا۔ یہ ربط براہِ راست صحبت کے ذریعے بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader