Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو سکتا ہے اور مواصلات کے ذریعے بھی۔ یہ ربط مسلسل طور پر مطلوب ہے۔ وقتی ربط سے تزکیہ کا فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ واسطہ کے بغیر شعوری یا غیر شعوری طور پر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ تزکیہ کے لیے ایک پُر اسرار واسطہ یا وسیلہ درکار ہے بی اسلاف کا واسطہ، اکابر کا واسطہ، شیخ کا واسطہ، بزرگوں کا واسطہ، اہل اللہ کا واسطہ، وغیرہ۔ واسطے کے اس پُر اسرار تصور میں شیخ بذاتِ خود مطلوب بن جاتا ہے، جب کہ رہنما کے تصور میں اصل مقصود خدا ہوتا ہے اور رہنما کی حیثیت صرف ذریعہ کی۔ واسطہ کا یہ تصور یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ تزکیہ بلا واسطہ اللہ سے تعلق کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، کوئی واسطہ اس معاملے میں ہرگز کارآمد نہیں۔ حقیقی تزکیہ ہمیشہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ اللہ کی توفیق کے لیے کسی واسطہ کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی توفیق ہر بندہ تک براہِ راست پہنچتی ہے۔ اس کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ ہے حقیقی معنوں میں تزکیہ کا طالب بن جانا۔ قرآن کی سورہ البقرہ میں ایک آیت ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (186: 2)۔ یعنی جب میرے بندے تم سے میری بابت دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہیے کہ میرے بندے میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تا کہ وہ راہ یاب ہوں۔ قرآن کی اس آیت میں ”قریب“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تزکیہ کا ذریعہ حصول قربت ہے، نہ کہ حصول وسیلہ۔ جو آدمی اپنا تزکیہ چاہتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو بیدار کر کے زیادہ سے زیادہ خدا کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی وسیلہ ہر گز مددگار نہیں ہوسکتا۔ تزکیہ یا تو براہِ راست تعلق باللہ کے ذریعے ملتا ہے، یا وہ سرے سے نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ واسطہ کا تصور تزکیہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page