تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
راستے میں رکاوٹ ہے۔ خدا جب انسان سے حبل الورید(ق،50:16) سے بھی زیادہ قریب ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے کسی واسطے کی کیا ضرورت بی واسطہ یا وسیلہ کا تصور پر اسرار نسبت کے عقیدہ پر قائم ہے، جب کہ رہنما یا مرشد کا تصور شعوری تعلق کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ تزکیہ سے پہلے تزکیہ کا اصل محرک احتیاج (destitution) ہے۔ جو آدمی جتنا زیادہ اپنے احتیاج کو جانے گا، اتنا ہی زیادہ وہ تزکیہ کی طرف راغب ہوگا۔ ایسا انسان فطری طور پر اپنے احتیاج کی تکمیل تلاش کرے گا، اور اسی تلاش کے نتیجے کا نام تزکیہ ہے۔ اس دریافت کا آغاز خود اپنے وجود سے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے انسان شعوری طور پر خود اپنی موجودگی (existence) کو دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اس کے اندر یہ تجسس (curiosity) پیدا کرتی ہے کہ مجھ کو وجود بخشنے والا کون ہے۔ اس طرح وہ اپنے خالق کو دریافت کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر اپنے خالق کے لیے بے پناہ عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ میں مکمل طور پر ایک ضرورت مند شخص ہوں۔ میں خود اپنی طاقت سے اپنی کوئی ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود میری ضرورت کی تمام چیزیں یہاں پیشگی طور پر موجود ہیں بی زمین، پانی، ہوا، آکسیجن، روشنی، خوراک اور دوسری بے شمار چیزیں جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے، وہ سب یہاں یک طرفہ عطیہ کے طور پر میرے لیے موجود ہیں۔ اس دریافت کے بعد وہ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ ان تمام عطیات کا مُعطی (giver) کون ہے۔ اس طرح وہ اپنے رب کو دریافت کرتا ہے۔ اس دریافت کے نتیجے میں اس کے اندر اپنے رب سے بے پناہ محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس طرح آدمی کی جستجو اُس کو اس سوال تک پہنچاتی ہے کہ میری منزل (goal) کیا ہے۔ پھر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ اپنی مطلوب منزل کو نہیں پا سکتا۔ یہ دریافت اس کو آخر کار جنت کا طالب بنا دیتی ہے، جہاں وہ اپنی منزل کو پالے اور اپنے تمام تقاضوں کی تکمیل کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader