تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح آدمی جب سوچتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کے لیے ایک مستند رہنمائی درکار ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام تر تلاش کے باوجود خود اپنی بنیاد پر اپنے لیے مستند رہنمائی معلوم نہیں کر سکتا۔ اس دریافت کے بعد مزید تجسس اس کو اس حقیقت تک پہنچاتا ہے کہ مستند رہنمائی کا واحد ذریعہ پیغمبر (prophet) ہے۔ اس طرح وہ اپنے دل کی پوری آمادگی کے ساتھ پیغمبر کو اپنا رہنما بنالیتا ہے۔ ان دریافتوں کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے اندر تواضع (modesty) پیدا ہوتی ہے۔ وہ خالق کی عظمتوں میں جینے لگتا ہے۔ خدا کا تخلیقی نظام اس کے لیے خدا کی مسلسل یاد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جنت اس کے لیے اس کے سب سے بڑے مطلوب کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ پیغمبر کو وہ اپنے رہبر کامل کے طور پر قبول کرلیتا ہے ہی یہ وہ تمام عارفانہ تجربات ہیں جن کے مجموعے کا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ اور محاسبہ تزکیہ کوئی ایک بار کا عمل نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک بار کوئی کورس کرے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ایک مزکی انسان بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل (process) آدمی کی زندگی میں ساری عمر جاری رہتا ہے، موت سے پہلے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تزکیہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنا نگراں بننا پڑتا ہے۔ جو آدمی تزکیہ کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنے قول و عمل کی نگرانی کرتا رہے، وہ انتہائی بے لاگ انداز میں بار بار اپنا جائزہ لیتا رہے۔ خود احتسابی کا یہ عمل صرف اُس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جس کے اندر ندامت (repentance) اور محاسبہ (introspection) کی صلاحیت پائی جائے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر لمحہ آدمی کے لیے آزمائش کی صورتیں پیش آئیں، بار بار وہ نفس کے تقاضوں سے متاثر ہو، شیطان کی ترغیبات اس کو کسی غیر مطلوب چیز میں ملوث کردیں، ماحول کے اثر سے وہ کسی غلط چیز کا شکار ہوجائے، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کی ضد ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader