تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کو اتنا زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایسے موقع پر جاگ اٹھے ، وہ ہر موقع پر اپنی تطہیر کی کوشش میں لگ جائے ، وہ ہر ایسی آلودگی کے موقع پر دوبارہ اپنے آپ کو پاکیزہ بنائے ۔ یہی تزکیہ ہے۔ اس قسم کی خود احتسابی کے بغیر کوئی شخص مزکی شخصیت (purified personality) کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا۔ محاسبہ سے ذہنی ارتقا (intellectual development) حاصل ہوتا ہے، اور ذہنی ارتقا اس بات کا ضامن ہے کہ تزکیہ کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر آدمی کے اندر جاری رہے۔ تزکیہ اور تواضع فصل کے لیے موافق زمین درکار ہے۔ فصل ہمیشہ زرخیز زمین پر اگتی ہے، بنجر زمین پر کبھی فصل نہیں اگتی۔ اسی طرح تزکیہ کے لیے بھی موافق زمین درکار ہے۔ تواضع (modesty) تزکیہ کے لیے موافق زمین ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت ہوگی ، اس کے لیے تزکیہ کا حصول آسان ہوجائے گا۔ اس کے برعکس ، کبر (arrogance) تزکیہ کے لیے ایک غیر موافق زمین ہے۔ جس آدمی کے اندر کبر کا مزاج ہو، وہ کبھی تزکیہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تواضع (modesty) سے آدمی کے اندر کمی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ متواضع انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ مجھے کچھ اور پانا ہے جو میرے اندر نہیں ہے۔ اس احساس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے جب سچائی آتی ہے تو وہ کسی تحفظ ذہنی (reservation) کے بغیر اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ بے لاگ انداز میں اس کا جائزہ لیتا ہے ۔ وہ بہت جلد دریافت کرلیتا ہے کہ سچائی اس کے لیے اس کی کمی کی تلافی ہے۔ وہ سچائی کو خود اپنی چیز سمجھ کر اس کو قبول کرلیتا ہے۔ یہی صفت تزکیہ کی روح ہے۔ اس کے برعکس معاملہ متکبر انسان کا ہے۔ متکبر انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میرے پاس پہلے ہی سے سب کچھ موجود ہے، مجھے کسی سے کچھ اور لینے کی ضرورت نہیں۔ اس نفسیات کی بنا پر وہ باہر کی کسی چیز کو لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ مصلح کی بات کو آسانی کے ساتھ رد کردیتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اس کے لیے تزکیہ کے حصول میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader