Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ تزکیہ کا یہ عمل صرف اُس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جو تواضع کا مزاج رکھتا ہو۔ تواضع کا مزاج آدمی کے اندر قبولیت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی نفسیاتی پیچیدگی (complex) سے آزاد ہوگا اور جو آدمی نفسیاتی پیچیدگی سے آزاد ہو (الفجر، 89:27)، وہی تزکیہ کے درجے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ مسنون اذکار حدیث کی کتابوں میں ایسی روایتیں آئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اوقات میں کچھ کلمات ادا کرتے تھے، جن کو ذکر و دعا کے کلمات کہا جاتا ہے۔ یہ کلمات عام طور پر مسنون ذکر یا مسنون دعا کے نام سے مشہور ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ یہ مسنون اذکار تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور تزکیہ یہ ہے کہ آدمی ان اذکار کو یاد کرلے، اور مختلف موقع پر ان کو دہراتا رہے۔ مسنون اذکار کا یہ تصور ایک ناقص تصور ہے۔ مسنون اذکار دراصل مسنون کیفیات ہیں، نہ کہ سادہ معنوں میں صرف مسنون الفاظ۔ اس معاملے میں اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اعلیٰ معرفت کی بنا پر ربانی کیفیات سے معمور رہتے تھے، آپ کی یہ داخلی حالت مختلف مواقع پر آپ کی زبان سے نکل پڑتی تھی۔ آج جو لوگ حدیث کی کتابوں کو پڑھتے ہیں، وہ صرف الفاظ نبوی سے واقف ہوتے ہیں، وہ کیفیات نبوی سے واقف نہیں ہو پاتے۔ اس بنا پر وہ الفاظ کو اصل سمجھ لیتے ہیں، کیوں کہ وہ کتاب میں درج نہیں۔ مسنون اذکار کا یہ تصور مسنون اذکار کی تصغیر ہے، وہ مسنون اذکار کا صحیح تعارف نہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے مسنون اذکار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے شعور کو جگائے، وہ مسلسل تفکیری عمل کے ذریعے اپنے اندر ایسی شخصیت کی تعمیر کرے جو ربانی کیفیات میں جینے والی ہو، یہ گویا کہ مسنون اذکار سے پہلے کی سنت ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مسنون اذکار سے پہلے کی سنت کو اپنے اندر زندہ کرے، اس کے بعد اس کی زبان سے ذکر و دعا کے جو کلمات نکلیں گے، وہی اس کے لیے مسنون اذکار ہوں گے۔ اس طرح کی ربانی شخصیت تیار کیے بغیر جو آدمی مسنون اذکار کو دہرائے، وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page