تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف الفاظ کی تکرار ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں مسنون اذکار پر عمل۔ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسنون اذکار کے مقدس الفاظ ہیں، ان الفاظ میں پر اسرار طور پر کچھ خواص چھپے ہوئے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسنون اذکار دراصل مسنون کیفیات کو بتانے والے الفاظ ہیں، نہ کہ مجرد طور پر صرف مسنون الفاظ۔ تزکیہ اور دعا دعا کیا ہے، دعا اُس کیفیت کے لفظی اظہار کا نام ہے جو ایک طرف اپنی عبدیت اور دوسری طرف خدا کی ربوبیت کو دریافت کرنے کے بعد ایک انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ مسنون دعاؤں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ مسنون دعا، معروف معنوں میں، مسنون الفاظ دعا کا نام نہیں۔ مسنون دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اکتشافی دعا کا نام ہے۔ ایک ربانی دریافت جب الفاظ میں ڈھل جائے تو یہی وہ دعا ہے جس کو مسنون دعا یا اکتشافی دعا کہا جا سکتا ہے۔ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي؛ فَلْيَظُنّ بِى خَيْرًا مَّآ أَحَبَّ (ذخیرة الحفاظ لابن القیسراني، حديث نمبر 6541)۔ یعنی میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے بارے میں اچھا گمان کرے، جو مجھے پسند ہو۔ یہ گمان کیا ہے، یہ دراصل خدا کی صفات میں سے کسی ایک صفت کو دریافت کرنے کا نام ہے، جو آدمی کو یہ موقع دے کہ وہ خدا کے بارے میں اچھا گمان کرے، وہ اُس سے خیر طلب کرے ۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : وَآتَاكُمْ مِّنْ كُلّ مَّا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)۔ یہ آیت کسی بندے کو دعا کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) دیتی ہے جس کے حوالے سے وہ خدا کی رحمت کو انوووک (invoke) کر سکے۔ وہ یہ کہے کہ خدایا، دنیا کی زندگی میں اپنی ضرورتوں سے واقف بھی نہ تھا کہ میں تجھ سے اُس کا سوال کروں۔ تو نے میری فطرت کے تقاضوں کو سوال کا درجہ دے کر میری تمام دنیوی ضرورتوں کا انتظام کر دیا۔ آخرت کے معاملے میں بار بار میں تجھ سے سوال کر رہا ہوں، اب تو میرے سوال کو لازم کا درجہ دے کر آخرت میں بھی مجھے میری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader