تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
(presence of God) کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔ خدا سے گہری قربت اُس وقت ہوسکتی ہے جب کہ انسان خدا کو اس کے اعلیٰ ترین اوصاف کے ساتھ دریافت کرے ۔ مثلاً ہر انسان دنیا میں رہنے کے لیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ یہ چیزیں اس نے خود نہیں پیدا کی ہیں ، اس کا ایک دینے والا ہے اور وہ دینے والا بلاشبہ خدا ہے۔ خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس کا واحد منعم اور معطی (giver) ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کے یک طرفہ انعامات ہیں جن کی بنا پر وہ اس دنیا میں زندہ اور قائم ہے ۔ ایک لمحہ کے لیے اگر اس یک طرفہ عطیہ کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو انسان اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ جب ایک انسان اس طرح خدا کو اپنے منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے فطری نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی روح کے اندر خدا سے محبت کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے ۔ وہ اُس حقیقت کی تصویر بن جاتا ہے، جس کو قرآن میں ان کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہ (2:165) یعنی جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ قرآن میں سجدۂ قربت (العینۃ ، 96:19) کا ذکر ہے۔ یہ سجدہ قربت کیا ہے۔ یہ سجدہ قربت دراصل اُس انسان کا سجدہ ہے جو اپنے رب کے لیے محبت اور خشیت سے سرشار ہو اور اس سرشاری کے تحت وہ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر پڑے اس قسم کا سجدہ ایک مومن کے لیے گویا کہ تزکیہ کی معراج ہے۔ تزکیہ اور موت کی یاد تزکیہ کے عمل کے لیے موت کی یاد بہت طاقت ور ذریعہ ہے۔ موت کی یاد تزکیہ کو فی الفور کرنے کے ایک کام کی حیثیت دے دیتی ہے ۔ موت کی یاد آدمی کے اندر اس پہلو سے ایک سینس آف ارجنسی (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ تزکیہ کے عمل میں تاخیر کا تم تحمل نہیں کر سکتے ، تزکیہ کا کام آج کر ڈالو، کیوں کہ کل کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ تمھارے لیے موت کا دن ہوگا یا زندگی کا دن ۔ موت کا تصور آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ تم پر کسی بھی لمحہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ تم مرجاؤ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader