تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
گے ۔ اس کے بعد تم کو اُس سنگین صورتِ حال کا سامنا پیش آنے والا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (83:6)۔ یعنی مالکِ کائنات کے سامنے انسان کا کھڑا کیا جانا۔ یہ وہ دن ہوگا جب کہ فرشتے انسان کو لے جا کر خدا کے سامنے پیش کر دیں گے۔ خدا جو ہر کھلے اور چھپے کو جانتا ہے، وہ انسان سے اُس کے قول وعمل کا حساب لے گا۔ ایک حدیث کے مطابق، انسان کے قدم اُس وقت تک اللہ کے سامنے سے نہیں ہٹیں گے جب تک وہ اللہ کے سوالات کا جواب نہ دے دے (لَا تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2416۔ موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس نازک ترین لمحہ کو یاد کرے۔ وہ اُس آنے والے وقت کے بارے میں سوچتا رہے جو بہر حال اُس پر آئے گا۔ اُس دن اُس کے ابدی مستقبل (eternal future) کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ سوچ بلا شبہ ایک ایسی سوچ ہے جو آدمی کے اندر زلزلہ پیدا کر دے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص اس طرح موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے تزکیہ کے بارے میں بے حد فکر مند ہو جائے گا۔ وہ آخری حد تک یہ کوشش کرے گا کہ وہ ہر پہلو سے اپنا تزکیہ کر ڈالے، اس سے پہلے کہ اُس پر موت آئے اور اس کے لیے اپنی اصلاح کا وقت باقی نہ رہے۔ تزکیہ کا مقصد قرآن کی سورہ الزمر میں اہل جنت کے معاملہ کو اس طرح بتایا گیا ہے : ”اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرے، وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور جنت کے محافظ اُن سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر، خوش حال رہو، پس تم جنت میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ کے لیے۔ اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اُس نے ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں، مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تم فرشتوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader