Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھو گے کہ وہ عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، عالم کا خداوند‘‘۔ (75-73:39) الحمد للہ رب العالمین کی آیت سورہ الفاتحہ میں موجود دنیا کی نسبت سے آئی ہے۔ سورہ الزمر کے مذکورہ اقتباس میں یہ آیت دوبارہ آخرت کی دنیا کے لیے آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمدِ خداوندی ہے۔ یہی چیز موجودہ دنیا میں بھی مطلوب ہے اور آخرت میں بھی یہی چیز مطلوب ہوگی۔ تزکیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایسی پاک روحیں (purified (souls وجود میں آئیں جو آخرت میں مبنی بر حمد نظام حیات کا حصہ بن سکیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کا ایک کام یہ تھا کہ وہ ایک تہذیب (civilization) کو وجود میں لائے۔ انسان نے بڑے پیمانے پر یہ کام انجام دیا، حجری دور (stone age) سے آغاز کر کے اُس نے اس کو الیکٹرانک دور (electronic age) تک پہنچا دیا۔ یہ کام فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے کے ذریعہ انجام پایا، لیکن عملاً یہ ہوا کہ انسان نے ایک صحیح کام میں غلط کام کو ملا دیا۔ فطرت کی طاقتوں پر قابو پانے کے بعد وہ سرکش بن گیا، اس نے استبدادی نظام (despotic (system قائم کیا، اس نے آزادی کے نام پر انارکی (anarchy) پھیلائی، اس نے فیشن کے نام پر عریانیت (nudity) کو رواج دیا، وغیرہ۔ اس لیے قیامت میں یہ ہوگا کہ صالح لوگوں کو منتخب کر کے ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ ربانی تہذیب کو زیادہ بہتر طور پر قائم کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (21:105)۔ یعنی زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی معرفت کا ایک سفر ہے۔ یہ سفر دنیا سے لے کر آخرت تک چلا جا رہا ہے۔ دنیا میں معرفت کا سفر محدود طور پر انجام پاتا ہے، آخرت میں معرفت کا سفر لامحدود طور پر جاری رہے گا۔ اس سفر کو کامیابی کے ساتھ وہی شخص طے کر سکتا ہے جو اپنا تزکیہ کر کے اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page