Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کو اس کا اہل بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا کے تمام سمندروں کو اور ان کے برابر مزید سمندروں کو سیاہی (ink) بنا دیا جائے اور دنیا کے تمام درختوں کو قلم بنا دیا جائے اور پھر اللہ کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے گی، مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے (لقمان، 31: 27)۔ یہ بات جو قرآن میں کہی گئی ہے، وہ خبر نہیں ہے بلکہ وہ انشاء ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے ان کلمات کو دریافت کریں اور اس طرح وہ اپنی معرفت کو مسلسل بڑھاتے رہیں۔ قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (1: 2) یہ آیت بھی خبر نہیں ہے، بلکہ وہ انشاء ہے۔ یہ آیت دریافتِ معرفت کے دنیوی آغاز کو بتاتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں آخرت کے حوالے سے یہی آیت اس طرح آئی ہے: وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (39: 75)۔ یہ دوسری آیت دریافتِ معرفت کے اگلے مرحلے کو بتاتی ہے جو آخرت کے زیادہ بہتر ماحول میں ابد تک جاری رہے گا۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ: اِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062) اس حدیث میں جس دینی تائید کا ذکر ہے، اس کا سب سے بڑا مصداق غالباً انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے سائنس دانوں کا عمل ہے۔ انھوں نے معرفت کے حصول کے لیے ایک سائنٹفک فریم ورک دیا۔ آخرت میں اس سفرِ معرفت کو جاری رکھنے کے لیے اہل ایمان کو زیادہ اعلی درجے کے مؤیدین حاصل ہوں گے۔ یہ ملائکہ ہوں گے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: نَحْنُ اَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (41: 31)۔ تزکیہ کا معیار قرآن کی سورہ الشمس میں ارشاد ہوا ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (91: 9-10)۔ یعنی کامیاب ہوا، وہ شخص جس نے اپنے آپ کو پاک کیا، اور نا کام ہوا، وہ شخص جس نے اپنے آپ کو آلودہ کیا۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ اصل میں اس بات کا نام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page