تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ آدمی اپنی خداداد شخصیت کو آلودگی سے بچائے۔ اپنی پیدائشی فطرت کے اعتبار سے، ہر انسان وہی پاک شخصیت لے کر اس دنیا میں آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ لیکن دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے وہ اپنی خداداد فطرت کو مسلسل آلودہ کرتا رہتا ہے۔ جدید اصطلاح میں، اسی کا نام کنڈیشننگ (conditioning) ہے۔ اس اعتبار سے، تزکیہ کا معیار یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ کرکے اپنی کنڈیشننگ کو جانے اور "اپنی اصلاح آپ" کے اصول پر، اپنی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرکے وہ اپنے آپ کو اُس حالت فطری کی طرف واپس لے جائے جو اس کو خالق کی طرف سے پیدائشی طور پر دی گئی تھی۔ مزکی شخصیت (purified personality) دوسرے لفظوں میں ، ڈی کنڈیشنڈ شخصیت (de-conditioned personality) کا دوسرا نام ہے۔ جو آدمی اس طرح اپنا تزکیہ کرے، وہی وہ شخص ہے جو آخرت کی دنیا میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے گا۔ تزکیہ کا معیار (criterion) کیا ہے۔ تزکیہ کا معیار یہ ہے کہ آدمی کو اسلامی طرزِ فکر اور اسلامی طرزِ عمل سے اتنی زیادہ مناسبت پیدا ہو جائے کہ وہ اس کو اپنے دل کی آواز محسوس کرنے لگے۔ وہ کسی گرانی کے بغیر اس کو فوراً قبول کرلے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ تزکیہ کا اصل مقصد تعلق باللہ بتایا گیا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تزکیہ کی پہچان یہ ہے کہ بندے کا سول کنسرن (sole concern) صرف ایک ہستی بن جائے، اور وہ خدا کی ہستی ہے۔ اسی کا اصطلاحی نام توحید ہے، یعنی شرک سے مکمل طور پر پاک ہونا اور اللہ کو مکمل طور پر اپنا مرکزِ توجہ بنا لینا ۔ خدا کو اپنا سول کنسرن بنانا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ آدمی کی ذات میں کامل انقلاب کے ہم معنی ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ پورے معنوں میں خدا کو، دینے والا (giver) سمجھنے لگتا ہے، اور اپنے آپ کو پورے معنوں میں پانے والا (taker)۔ اس کی سوچ خدا رخی سوچ بن جاتی ہے۔ اس کے جذبات کا مرکز خدا بن جاتا ہے، اس کی بات اور اس کے کردار میں خدا کا رنگ دکھائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader