Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

دینے لگتا ہے، اس کے اندر کامل معنوں میں تواضع (modesty) پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک کٹ ٹو سائز انسان (man cut to size) بن جاتا ہے، دوسروں کے لیے اس کے دل میں نفرت کے بجائے خیر خواہی پیدا ہو جاتی ہے، اس سے لوگوں کو اکڑ کے بجائے اعتراف کا تجربہ ہونے لگتا ہے، وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی ڈھونڈنے لگتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے، وہ بولنے سے زیادہ خاموشی کو پسند کرنے لگتا ہے، آگے کی سیٹ حاصل کرنے کے بجائے پیچھے کی سیٹ اس کے لیے محبوب بن جاتی ہے، وہ بولنے سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ میری بات خدا کے یہاں قابلِ قبول ہوگی یا وہ خدا کے یہاں رد کر دی جائے گی، وہ تنہائی میں بھی اُسی طرح محتاط ہو جاتا ہے جس طرح کوئی شخص مجمع کے درمیان محتاط ہوتا ہے۔ اسپرپیچول سوئیلائزیشن کی طرف انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کی سطح پر خدا کی حمد کرے، اس طرح وہ ایک ربانی سوئیلائزیشن کو وجود میں لائے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے آزادی دی گئی تھی۔ اس آزادی کا غلط استعمال کر کے اس نے موجودہ دنیا میں ربانی سوئیلائزیشن کے بجائے سیکولر سوئیلائزیشن کی تشکیل کی۔ مگر خدا کا اصل مطلوب ربانی سوئیلائزیشن ہے، نہ کہ سیکولر سوئیلائزیشن۔ بہت جلد یہ ہونے والا ہے کہ موجودہ دنیا ختم کر دی جائے اور ایک نئی بہتر دنیا بنائی جائے (الشوریٰ، 42:36)۔ اِس نئی دنیا کو آخرت کہا جاتا ہے۔ آخرت میں یہ ممکن ہوگا کہ خدا کے مطلوب کے مطابق، ایک اعلیٰ ربانی سوئیلائزیشن کی تشکیل کی جائے۔ یہاں یہ ممکن ہوگا کہ خدا کی اعلیٰ معرفت ظاہر ہو۔ خدا کی مرضی کے مطابق، ایک آئیڈیل معاشرہ (ideal society) بنے۔ یہ ایک پرفیکٹ دنیا ہوگی، جہاں انسان کے لیے ممکن ہوگا کہ اس کو ہر اعتبار سے فلَفلمنٹ (fulfilment) کی زندگی حاصل ہو جائے۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ اس آنے والے ربانی معاشرہ یا اسپرپیچول سوئیلائزیشن کے لیے صالح افراد حاصل کئے جائیں۔ صالح انسان کا مطلب ہے، درست انسان (right person)۔ تزکیہ کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page