Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

مقصد یہ ہے کہ جنت کے معاشرے کے لیے ایسے افراد تیار کیے جائیں جو وہاں کے معیاری ماحول میں رہنے کے اہل ہوں جن کی سوچ، جن کی گفتگو، جن کی عادتیں، جن کا ذوق، غرض ہر اعتبار سے وہ اُس کردار کے مالک ہوں جو آخرت میں بننے والی جنت کے لیے مطلوب ہے۔ موجودہ دنیا اِسِی قسم کے افراد کی تیاری کے لیے بنائی گئی ہے اور اِسِی تیاری کا نام تزکیہ ہے۔ یہ تزکیہ ہر آدمی خود اپنے ذاتی محاسبہ کے ذریعے انجام دیتا ہے۔ جنت کے معاشرے میں جو أحوال پیش آنے والے ہیں، وہ سب موجودہ دنیا میں بار بار پیش آتے ہیں۔ فرشتے اِس اعتبار سے ہر انسان کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں، یعنی تعلقات اور معاملات کے دوران آدمی نے کس طرح کا رسپانس (response) دیا، جنتی رسپانس یا غیر جنتی رسپانس۔ ربانی رسپانس، یا غیر ربانی رسپانس۔ درست رسپانس یا نادرست رسپانس۔ ذمے دارانہ رسپانس یا غیر ذمہ دارنہ رسپانس۔ فرشتوں کے اِس ریکارڈ پر اُن لوگوں کو چُنا جائے گا جنھوں نے دنیا کی زندگی میں مطلوب رسپانس دیا تھا۔ یہی منتخب لوگ جنتی دنیا کے وارث ہوں گے اور یہی لوگ وہاں ربانی سوئیلائزیشن بنائیں گے جس کی تشکیل کا پر اسس ابد تک جاری رہے گا۔ جس طرح خدا کے کلمات (لقمان، 31: 27) کی کوئی حد نہیں، اِسِی طرح ربانی تہذیب کے پراسس (process) کی بھی کوئی حد نہیں۔ روحانی ترقی روحانی ترقی کیا ہے۔ روحانی ترقی اپنی داخلی شخصیت میں ربانی بیداری لانے کا دوسرا نام ہے۔ مادی خوراک انسان کے جسمانی وجود کو صحت مند بناتی ہے۔ اِسِی طرح انسان کا روحانی وجود ان لَطیف تجربات کے ذریعہ صحت مند بنتا ہے جن کو قرآن میں رزقِ رب (طہ، 20: 131) کہا گیا ہے۔ 16 جولائی 2004 کا واقعہ ہے۔ اُس دن دہلی میں سخت گرمی تھی۔ دوپہر بعد دیر تک کے لیے بجلی چلی گئی۔ چھت کا پنکھا بند ہو گیا۔ میں اپنے کمرے میں سخت گرمی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ دیر تک میں اِسی حالت میں رہا یہاں تک کہ بجلی آگئی اور پنکھا چلنے لگا۔ یہ ایک اچانک تجربے کا لمحہ تھا۔ پنکھا چلتے ہی جسم کو ٹھنڈک ملنے لگی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page