تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
اچانک مصیبت کا دور ختم ہوگیا اور اچانک راحت کا دوسرا دور آگیا۔ اس وقت مجھے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیثیں یاد آئیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا مومن کے لیے مصیبت کی جگہ ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2956)۔ جب مومن کی موت آئے گی تو اچانک وہ اپنے آپ کو جنت کے باغوں میں پائے گا۔ دنیوی زندگی کا پر مصیبت دور اچانک ختم ہو جائے گا اور عین اسی وقت اُخروی زندگی کا پر راحت دور شروع ہو جائے گا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4262)۔ جب یہ تجربہ گزرا تو میری فطرت میں چھپے ہوئے ربانی احساسات جاگ اٹھے۔ مادی واقعہ روحانی واقعہ میں تبدیل ہو گیا۔ میرے دل نے کہا کہ کاش، خدا میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمائے۔ جب میرے لیے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آئے تو وہ ایک ایسا لمحہ ہو جو اچانک دورِ مصیبت سے دور راحت میں داخلے کے ہم معنی ہو جائے۔ روحانیت دراصل ایک ذہنی سفر (intellectual journey) ہے، ایک ایسا سفر جو آدمی کو مادیت سے اوپر اٹھا کر معنویت تک پہنچادے۔ یہ سفر داخلی سطح پر ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ بظاہر اس سفر کو نہیں دیکھتے، لیکن خود مسافر انتہائی گہرائی کے ساتھ اس کو محسوس کرتا ہے۔ روحانیت انسان کو انسان بناتی ہے۔ جس آدمی کی زندگی روحانیت سے خالی ہو، اُس میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔ محاسبہ کیا ہے ایک روایت کے مطابق، خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے ایک دن خطبے میں کہا: حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا وَزِنُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوْزَنُوا (مصنف ابن ابی شیبہ، اثر نمبر (34459 یعنی تم خود اپنا حساب کر لو، اس سے پہلے کہ تمھارا حساب کیا جائے۔ اپنے آپ کو تول لو، اس سے پہلے کہ تم کو تولا جائے۔ اس قول سے اپنی اصلاح کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ آدمی اگر اس اصول کو پکڑ لے تو یہی اصول اس کی اصلاح اور تزکیہ کے لیے کافی ہو جائے۔ محاسبہ (introspection) کا مطلب کیا ہے، محاسبہ دراصل اپنی غلطی کو دریافت کرنے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader