Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

کوشش کا نام ہے۔ انسان سے بار بار یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ سچائی کی صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی نقطۂ انحراف کو ڈسکو ر کرنے کا نام محاسبہ ہے: Discover the point of your deviation from the truth. غلطی کی نفسیات یہ ہے کہ اگر آدمی انحراف کے آغاز میں اس کو دریافت کرلے تو آسانی کے ساتھ وہ اس کی اصلاح کر سکتا ہے، لیکن جب اُسی حالت پر لمبی مدت گزر جائے تو اس کے بعد غلطی کی اصلاح تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ اِس لیے آدمی کو اس معاملے میں بہت زیادہ چوکنار ہنا چاہیے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آغاز میں غلطی کا معاملہ صرف انحراف کا معاملہ ہوتا ہے، لیکن بعد کو وہ کنڈیشننگ (conditioning) کا معاملہ بن جاتا ہے۔ انحراف اول کے وقت آدمی کا ضمیر (conscience) اس کو متنبہ کرتا ہے، لیکن اگر وہ ابتدائی انتباہ (warning) کے وقت اپنی اصلاح نہ کرے تو دھیرے دھیرے اس کی غلطی اس کے معمول کی زندگی میں شامل ہو جاتی ہے، وہ اس کے ذہن کا حصہ بن جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ اس کے لاشعور (unconscious mind) میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب ایسا ہو جائے تو اس کے بعد اصلاح کا امکان عملاً ختم ہو جاتا ہے۔ عادت کو چھوڑنا اسلام کا کلمہ ہے : لا الہ الا اللہ ۔ اِس کلمے کے مطابق، پہلے نفی کا درجہ ہے اور اس کے بعد اثبات کا درجہ۔ کوئی آدمی جب تک غیر اللہ کی نفی نہ کرے، اُس کو اللہ کے اقرار کا درجہ نہیں مل سکتا۔ دونوں یکساں طور پر کلمہ توحید کا جز ہیں ۔ اُن میں سے کسی ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ یہ فطرت کا ابدی اصول ہے کہ ایک چیز کو چھوڑنے کے بعد ہی آدمی کو دوسری چیز ملے۔ خدا کی بنائی ہوئی اِس دنیا میں کسی انسان کو کوئی حقیقی چیز اِسی وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ اس سے پہلے غیر حقیقی چیزوں کو چھوڑ چکا ہو۔ غیر حقیقی چیز کو نہ چھوڑنا اور حقیقی چیز کو پانے کی امید رکھنا، یہ دونوں چیزیں صرف ایک خوش فہم انسان کے دماغ میں فرضی طور پر اکٹھا ہوسکتی ہے، مگر حقیقت کی دنیا میں اس طرح کی یکجائی ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page