ذکر و دعا
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
تجربہ اور دعا 30 جولائی 2010 کو میں آل انڈیا ریڈیو سن رہا تھا۔ اناؤنسر نے ایک واقعہ بیان کیا۔ اس نے بتایا کہ لندن کا ایک شخص جاب (job) کی تلاش میں تھا۔ اس نے کئی کمپنیوں اور اداروں میں کوشش کی، مگر اس کو جاب نہیں ملا۔ آخرکار اس نے ایک انوکھی تدبیر کی۔ اس نے ایک پلے کارڈ (play card) پر لکھا— برائے مہربانی، مجھے ایک جاب دیجئے: Please give me a job. اس پلے کارڈ کو لے کر وہ لندن کی ایک سڑک پر کھڑا ہو گیا۔ بارش ہونے لگی تب بھی وہ وہاں اُسی طرح کھڑا رہا۔ شام کو لندن کا ایک ٹمبر مرچنٹ (timber merchant) وہاں سے گزرا۔ اس نے پلے کارڈ کے مضمون کو پڑھا۔ وہ اپنی سواری سے اتر کر اُس آدمی کے ساتھ آیا اور اس کو اپنا پتا دیتے ہوئے کہا— کل تم میرے آفس میں آجاؤ۔ میں تم کو جواب دوں گا، اور پھر اگلے دن اس کو جاب مل گیا۔ میں نے ریڈیو پر اس واقعے کو سنا تو دل میں ایک بے چینی پیدا ہوئی۔ مجھے موت اور آخرت اور جنت یاد آئی۔ میں نے اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہا: Please give me a seat in the Paradise. یہ ایک سادہ مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی تجربے کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر دعا کرنے کا مطلب کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہم بار بار مختلف قسم کے تجربات سے گزرتے ہیں، بار بار ہمارے سامنے مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو اور اس کو اللہ کی معرفت حاصل ہو چکی ہو تو یہ تجربات اور واقعات اس کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جائیں گے۔ ان تجربات اور واقعات کے حوالے سے وہ بار بار اللہ کا ذکر کرے گا۔ کیفیت سے بھری ہوئی دعائیں اس کی زبان سے نکلتی رہیں گی۔ بظاہر وہ ایک مادی دنیا میں رہے گا، لیکن یہ مادی دنیا اس کے لیے رزقِ روحانی کا ایک عظیم دسترخوان بن جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader