Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی اعلیٰ معرفت یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ پوری تاریخ میں صرف چند مخلص (chosen) انسانوں کے سوا کوئی بھی شخص اللہ کی عظمت کو دریافت نہ کر سکا۔ چناں چہ پوری انسانی تاریخ میں جو چیز سب سے کم پائی جاتی ہے، وہ خدا کی اعلیٰ معرفت ہے۔ اعلیٰ معرفت اعلیٰ عظمت سے جڑی ہوئی ہے۔ جب انسان خدا کی اعلیٰ عظمت کو دریافت نہ کر سکا تو اس کے بعد لازماً یہی ہونا تھا کہ وہ خدا کی اعلیٰ معرفت سے بھی محروم رہے۔ انسان اپنی داخلی فطرت کے اعتبار سے، ایسا خدا چاہتا ہے جو غیر مشترک طور پر اعظم و برتر خدا کی حیثیت رکھتا ہو۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے، لامحدود عظمتوں والا خدا چاہتا ہے۔ چوں کہ انسان پچھلی تاریخ میں ایسے لامحدود خدا کو دریافت نہ کر سکا، اس لیے خدا سے اس کا برتر تعلق بھی قائم نہیں ہوا۔ انسان، خدا کو رسمی عقیدہ کے طور پر تو مانتا رہا، لیکن اس کو وہ خدا نہیں ملا جو اس کا سب کچھ بن جائے، جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرے اور جس کے بارے میں اس کے اندر سب سے زیادہ خشیت کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ ایسا کیوں ہوا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ قدیم زمانے میں انسان دیکھتا تھا کہ یہاں بہت سی چیزیں ہیں جن کو بظاہر بڑائی کا درجہ ملا ہوا ہے۔ مثلاً سورج، چاند، سمندر اور پہاڑ وغیرہ۔ اس طرح قدیم زمانے میں بہت سے بڑے بڑے بادشاہ تھے جو اپنے بارے میں ”أَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی“ (79:24) کا دعویٰ کرتے تھے۔ اسی طرح لوگوں کے اپنے زندہ اور مردہ اعاظم تھے جو بظاہر دیکھنے میں بڑے نظر آتے تھے، ان سب کو انسان نے بڑا درجہ دے دیا۔ قدیم زمانے میں اس طرح کی بہت سی چیزیں تھیں جو بظاہر انسان کو بڑی دکھائی دیتی تھیں۔ پر فریب بڑائی ( deceptive greatness) کا یہی وہ واقعہ ہے جس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا (14:36) قدیم زمانے میں اس قسم کی مختلف بُرائییاں انسان کے ذہن پر چھائی رہتی تھیں۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ خدا پر عقیدہ رکھنے کے باوجود انسان خدا کو اعلیٰ ترین اور عظیم ترین ہستی کی حیثیت سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page