Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر کی دعا کی مثال خدا کے تمام پیغمبروں نے اسمِ اعظم کے ساتھ دعائیں کی ہیں۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر میدانِ جنگ کی طرف نگاہ ڈالی تو آپ کو نظر آیا کہ طاقت ور مشرک فوج کے مقابلے میں، مؤحدین کی ایک کم زور فوج کھڑی ہوئی ہے، جو تعداد میں بھی کم ہے اور سامانِ حرب میں بھی کم۔ اس نابرابری کو دیکھ کر آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ آپ کمالِ عجز کے ساتھ خدا کے سامنے زمین پر سجدے میں گرپڑے ۔ اُس وقت آپ کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے : اللهم، إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام، لا تعبد في الأرض أبدا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی اے اللہ ، اگر تو اہلِ اسلام کے اس گروہ کو آج ہلاک کردے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ دعا بھی اپنے ربانی جذبات کے اعتبار سے اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی، جو کامل طور پر قبول ہوئی ۔ کم زور گروہ نے خدا کی مدد سے طاقت ور گروہ کو مکمل شکست دے دی۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا ، صرف پیغمبروں کے ساتھ خاص نہیں ، اس دعا کی توفیق ہر بندۂ خدا کو ملتی ہے۔ جو شخص بھی ایمان اور اخلاص کے اعلیٰ ربانی جذبات کے ساتھ خدا کی طرف رجوع ہو، وہ خدا کی مدد سے اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کی توفیق پاتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ ایسی دعا کے موقع پر آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا پورا وجود خدا کی تجلی میں نہا اٹھا ہے۔ اُس وقت وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اُس نے اس سے پہلے کبھی سوچے نہیں تھے ۔ تاریخ میں بہت سے خدا کے بندے ہیں، جن کو اس قسم کی دعاِ اعظم کی توفیق ملی ہے۔ دعا کے ذریعے شرکت قرآن کی سورہ التوبہ میں کچھ اہلِ ایمان کا ذکر ہے۔ غزوۂ تبوک ( 8 ہجری) کے موقع پر چوں کہ نفیر عام تھی ، اس لیے وہ اُس میں جانا چاہتے تھے ۔ مگر اُن کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اس طویل سفر کے لیے ضروری سامان کی تیاری کر سکیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئے ، مگر آپ نے معذرت فرمائی ۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن کی ایک آیت میں اس طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page