اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 368
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا گیا ہے: اور نہ اُن لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب وہ تمھارے پاس آئے کہ تم اُن کو سواری دو، تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ میں تم کو اُس پر سوار کروں، تو وہ اِس حال میں واپس ہوئے کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اِس غم میں کہ اُنھیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں (9:92)۔ یہ افراد غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہو سکے، مگر ایک حدیثِ رسول کے مطابق ، خدا کے نزدیک وہ اِس میں شریک مانے گیے۔ غزوۂ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے متعلق اپنے اصحاب سے فرمایا: إِنّ بالمدينة أقواماً، ما سرتم مسيراً، ولا أنفقْتُم من نفقة، ولا قطعتم من وادٍ، إلاّ وَهُم معکم فیہ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2508)۔ یعنی مدینہ میں کچھ ایسے افراد ہیں کہ تم جب کسی راستے پر چلے، یا جب بھی تم نے کچھ مال خرچ کیا، یا تم کسی وادی سے گزرے تو وہ اِس میں تمھارے ساتھ تھے۔ یہ بڑا عجیب انعام تھا جو مدینہ کے اُن افراد کو ملا، یعنی عمل کے بغیر عمل کے انعام میں شرکت۔ میں غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ انوکھا انعام اُن کو اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی بنا پر ملا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ وہ اپنی تنہائیوں میں رورو کر یہ دعا کر رہے ہوں کہ خدایا، تو نے دوسروں کو جو انعام عادل ہونے کی حیثیت سے دیا، وہ انعام مجھ کو رحیم ہونے کی حیثیت سے دے دے۔ تو نے دوسروں کے لیے جو چیز اُن کے عمل کی بنا پر مقدر کی، وہ چیز میرے لیے میری دعا کے نتیجے میں مقدر کر دے۔ تو نے جو کچھ دوسروں کو استحقاق کی بنا پر عطا فرمایا، وہ چیز مجھ کو سوال کرنے والے کی حیثیت سے دے دے۔ دوسروں کو جو چیز تو نے استطاعت کی بنا پر دی ، وہ مجھ کو عجز کی بنا پر دے دے۔ تو نے دوسروں کو جو چیز مومن قوی ہونے کی حیثیت سے دی ، وہ مجھ کو مومن ضعیف ہونے کی حیثیت سے دے دے، کیوں کہ تیرے رسول نے ہم کو یہ خبر دی ہے کہ : ضعیف مومن کے لیے بھی خیر ہے: وفى كلِّ خير (صحیح مسلم، حدیث نمبر 4823)۔ اسمِ اعظم کا علم خدا کو اسمِ اعظم، اسماءُ حسنیٰ سے الگ کوئی نام نہیں، وہ اُنھی ناموں میں شامل ہے۔ اسماءُ حسنیٰ میں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader