Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 374

By Maulana Wahiduddin Khan

نمائندہ دعا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہی دعا کرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اسی مرحلے سے گزرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو قربانی کی سطح پر جا کر یہ کہنا ہے کہ ــــ خدایا، میں نے تیرے دین کی خاطر دنیا کی چیزوں کو چھوڑا، تاکہ تو اگلے مرحلے حیات میں اپنا زیادہ بہتر انعام مجھے عطا فرمائے۔ یہی وہ عورت اور مرد ہیں جن کی بابت یومِ الحساب (Day of Judgement) کے موقع پر یہ اعلان کیا جائے گا کہ انھوں نے خدا کی خاطر دنیا کی عارضی جنت کو چھوڑ دیا تھا، اب اُن کو آخرت کی زیادہ اعلیٰ جنت میں داخل کرو، تاکہ یہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں اور کبھی اکتاہٹ کے احساس کا شکار نہ ہوں۔ اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا، خدا کی توفیق سے ہوتا ہے۔ یہ توفیق صرف اُس انسان کو ملتی ہے جو اسمِ اعظم کی دعا سے پہلے اسمِ اعظم کی کیفیات میں جی رہا ہو۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کا معاملہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ وہ دراصل ’الإناء يترشّح بما فيه‘ کا معاملہ ہے، یعنی ایک انسان جو حق کا متلاشی تھا، پھر اُس کو خدا کی صورت میں حق مل گیا اور اُس کا وہ حال ہو جس کی تصویر قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: اَوّ من كان ميّتا فأحييناه، وجعلنا له نوراً يمشي به في النّاس (6:123)۔ یعنی وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اُس کو زندگی دی اور ہم نے اُس کو ایک روشنی دی کہ اُس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذکرِ کثیر (الأحزاب، 33:41) میں جینے لگتا ہے، یعنی ہر وقت خدا کو یاد کرنا، ہر وقت خدا کے بارے میں سوچنا، ہر لمحہ خدا کی تجلّیات کا تجربہ کرنا۔ ایسا انسان گویا کہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کے لیے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی خاص موقع اُس کی زندگی میں پیش آتا ہے تو اُس کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات ایک طوفان بن کر اُبل پڑتے ہیں۔ اُس وقت وہ مخصوص قسم کے الہامی الفاظ میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ ایک تیار ذہن سے نکلنے والی اسی قسم کی الہامی دعا کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page