Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 375

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صالح خاتون کا واقعہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم خفیہ طور پر حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان لائی تھی۔ جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا اور اُس کے قتل کا فیصلہ صادر کر دیا۔ اُس وقت آسیہ کی زبان سے ایک دعانکلی جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (66:11)۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عمل سے بچا لے اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے۔ یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جس کے اندر اسمِ اعظم کی روح پوری طرح موجود ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آسیہ نے جب یہ دعا کی تو اُس وقت موت سے پہلے اُس کو یہ تجربہ ہوا کہ فرشتوں نے اُس کو آخرت کی دنیا میں ملنے والا جنتی مکان اُس کو دکھا دیا (القرطبی، جلد 18، صفحہ 203)۔ یہ بات یقینی ہے کہ آسیہ کی زبان سے یہ دعا اچانک یا اتفاقاً نہیں نکلی، بلکہ وہ اُس کی پچھلی زندگی کے دوران پیش آنے والے تجربات کا نتیجہ تھی۔ اس دعا سے پہلے وہ ایک تیار شخصیت بن چکی تھی ۔ وہ پہلے ہی سے ذکر اور دعا کے مخصوص لحات میں جی رہی تھی ۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ جب فرعون کی سفاکی کا معاملہ پیش آیا تو اُس کی زبان سے فطری طور پر مذکورہ قسم کے ربانی الفاظ نکل پڑے۔ ایک تاریخی مثال سلطان عبد الرحمن الناصر (وفات 961 ء) اسپین (اندلس) کا ایک مسلم حکمران تھا۔ اُس نے پچیس سال کی محنت سے قرطبہ کے پاس ایک شان دار محل بنایا۔ یہ محل چار میل لمبی اور تین میل چوڑی زمین میں واقع تھا۔ اس محل کا نام اس نے الرّہرا رکھا۔ مگر غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے اس کو قصر الزہرا کے بجائے مدینۃ الزہرا کہا جانے لگا۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کو عمارتوں کا بہت شوق تھا۔ اس نے الرّہرا کے نام سے یہ شاہی بستی بسائی اور اس میں شان دار محل تعمیر کیے۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page