اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 376
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلسل تین جمعے میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا۔ چوتھے جمعہ کو جب سلطان جامع مسجد پہنچا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر (وفات 966ھ) نے جو خطبہ دیا، اُس میں نام لیے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہوجانے پر وعیدیں تھیں۔ مثلاً کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شان دار محل بناتے ہو گویا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبارانہ حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو (131-26:128) تمهارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو، یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات لگر پر اٹھائی اور وہ عمارت اُس کو لے کر جہنم کی آگ میں جاگری۔ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے، ہمیشہ اُن کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی، یہاں تک کہ اُن کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے (110-109: 9)۔ اسی طرح قاضی منذر نے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی۔ اپنے خطبے میں اگرچہ انھوں نے سلطان کا نام نہیں لیا، مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں۔ تنقید، یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اپنے حاکم کے اوپر تھی۔ اور جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کبر کا سخت دورہ پڑتا ہے۔ بڑے بڑے شریف اور دین دار لوگ بھی اُس وقت قابو سے باہر ہوجاتے ہیں، مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔ اگرچہ سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا، مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔ گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے کے حکم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت سخت تکلیف دی۔ اب میں نے طے کر لیا ہے کہ میں اُن کے پیچھے کبھی جمعہ کی نماز نہیں پڑھوں گا۔ الحکم نے کہا: قاضی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader